• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر بمباری، ہرمز کھلوانے میں ناکامی، تہران نے 4 جہازوں کو روک دیا، عراق میں بھی امریکی فوجی ہلاک

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رہا۔ایران کے شہری ڈھانچے پر بمباری کے باوجود واشنگٹن آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہا‘تہران نے گزشتہ روز آبی گزرگاہ میں چار بحری جہازوں کو روکدیا‘ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بتایا ہے کہ امریکا نے دارخوین میں ایک زیرتعمیر جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کیا ہے۔سینٹرل کمانڈکے مطابق ہفتے کو شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی ماراگیاہے ‘دوسری جانب خلیج میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایران کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں ‘کویت میں امریکی اڈوں پر خودکش ڈرون حملے ‘ امریکی اسلحہ ڈپو اور ریڈارسسٹم تباہ ‘واٹر اور پاور پلانٹ میں آگ ‘اردن کے شہر عقبہ میں ایئرپورٹ اوربندرگاہ کوخالی کرا لیا گیا ‘اسرائیل نے اردن پر فائر کئے گئے میزائل کے ملبے کو اسرائیلی علاقے میں گرنے سے روکنے کے لیے انٹرسیپٹرزداغ دیئے ‘ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اتوارکو اسرائیلی اور اردنی افواج نے اردن کے شہر عقبہ کو نشانہ بنانے والے ایک ایرانی میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا‘ ایرانی حملے کےبعد دارالحکومت عمان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سائرن بج اٹھے‘اردن نے حملوں کیخلاف ایرانی سفیر کو طلب کر لیا‘ پاسداران نے دوامریکی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہےجبکہ صدر ٹرمپ نے دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کوانتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مفاہمتی یادداشت سے ایران کے دستبردار ہونے کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے‘ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میںامریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے پنٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے خبردارکیا ہے کہ ایران کے کسی بھی حملے کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا‘ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کیے گئے جنوبی راستے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گا اور اس آبی گذرگاہ پر اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا‘اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ درجنوں امریکی ری فیولنگ طیاروں کی اسرائیل آمد متوقع ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی حامی گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات اور شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں‘عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایرانی جوہری بجلی گھر پر مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنصیب ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اورآخری معائنے کے وقت وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔مبینہ حملے سے تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے۔عراق کےوزیراعظم علی الزیدی آنے والے ہفتے کے دوران تہران کا دورہ کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہےکہ آبنائے ہرمز کے پورے علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ تہران نے ابھی تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں اور نہ ہی وہ واشنگٹن سے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کرے گا۔ ادھرامریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رہا۔ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ نے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے مختلف علاقوں پر نئے امریکی حملوں کی اطلاع دی ہےجبکہ جزیرہ قشم کے بعض علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید