• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سول سروسز اکیڈمی میں تربیت کا نیا ماڈل، تحقیقی ادارہ جاتی اٹیچمنٹ پروگرام شروع

لاہور (آصف محمود بٹ)سول سروسز اکیڈمی میں تربیت کا نیا ماڈل، افسران کیلئے تحقیقی ادارہ جاتی اٹیچمنٹ پروگرام شروع۔ شواہد پر مبنی پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مؤثر، جوابدہ و عوام دوست طرز حکمرانی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت۔ ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ مؤثر طرز حکمرانی کا انحصار مضبوط اداروں، اجتماعی قیادت اور مسلسل ادارہ جاتی صلاحیت سیکھنے پر ہے۔ پاکستان سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) لاہور نے سول سروس کی پیشہ ورانہ تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے پروبیشنری افسران کیلئے ایک منفرد پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز اٹیچمنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ مستقبل کے سول افسران کو وفاقی اور صوبائی سطح کے اہم سرکاری اداروں میں تحقیقی بنیادوں پر عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اکیڈمی کے مطابق یہ پروگرام سول سروس کی تربیت میں ایک بنیادی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد شواہد پر مبنی پالیسی سازی، ادارہ جاتی سیکھنے، انتظامی اصلاحات اور عوام دوست طرز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔چار روزہ پروگرام 20 سے 23 جولائی تک جاری رہے گا، جس کے دوران 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے تمام 217 پروبیشنری افسران کو 71 تحقیقی گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ تین سے چار افسران پر مشتمل ہوگا، جنہیں ایک مخصوص وفاقی یا صوبائی سرکاری ادارے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ یہ گروپس متعلقہ اداروں میں محض مشاہدہ کرنے کے بجائے باقاعدہ تحقیقی ٹیموں کے طور پر کام کریں گے اور اداروں کے انتظامی ڈھانچے، گورننس کے نظام، فیصلہ سازی کے طریقہ کار، تنظیمی رویوں، احتسابی میکانزم، عوامی خدمات کی فراہمی، ادارہ جاتی استعداد، پالیسی پر عملدرآمد اور درپیش انتظامی چیلنجز کا تفصیلی اور سائنسی جائزہ لے کر شواہد پر مبنی اصلاحی سفارشات مرتب کریں گے۔اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز ایک تعارفی اجلاس سے ہوا جس میں 71 ممتاز وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو افسران، اعلیٰ سرکاری حکام، سول سروسز اکیڈمی کے ریسرچ گروپ ایڈوائزرز اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ پروگرام میں شریک ادارے ملک کے انتظامی ڈھانچے کے تقریباً تمام اہم شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریگولیٹری اتھارٹیز، مالیاتی نظم و نسق، صحت، تعلیم، زراعت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شہری منصوبہ بندی، ڈیجیٹل گورننس، موسمیاتی تبدیلی، سماجی تحفظ، سیاحت، عوامی سہولیات اور معاشی ترقی سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید