کوٹلی (این این آئی، نمائندہ جنگ)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کا ایک وزیر اب بھی کابینہ میں ہے ،یہ کشمیریوں کی توہین ہے ، انہوں نے ن لیگ سے ایسے وزیر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ وزیر کابینہ میں رہے گا ہم سمجھیں گے یہ آپ کی پالیسی ہے ، وفاق اور ن لیگ ایسے وزیر کو ہٹائیں،جو ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں یہ نہ سوچیں کہ ہم آپ کو بھولیں گے، الیکشن ہونے دیں میں خود آپ کو دیکھ لوں گا،عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنیں گے، حق حاکمیت، حق ملکیت، حق روزگار دلواں گا، میں یہاں بھی وہی منشور لایا ہوں جو گلگت بلتستان میں تھا،چاہتا ہوں لاڑکانہ کے ایم این اے کے ساتھ کشمیر کا ایم این اے بھی میرے ساتھ قومی اسمبلی میں ہو،احتجاج کرنے والوں سے مطالبہ ہے تحقیقات تک اپنا احتجاج بند کریں، وفاق سے اپیل ہے ٹروتھ کمیشن کے کام مکمل کرنے تک مزید کارروائی نہ کریں، ریاست پاکستان انٹرنیٹ پر پابندی اٹھا دے، کشمیر کے موجودہ حالات سے ہر کشمیری پریشان ہے، مجھے احساس ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹلی کے سکندر حیات اسٹیڈیم میں بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی وزیر رانا ثنااللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ (ن )لیگ کے وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے باعث کشمیر میں منفی فضا پیدا ہوئی۔اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت کشمیر میں (ن )لیگ کے وزرا کی جانب سے بھڑکائی گئی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ (ن )لیگ کے وزرا نے غیر سنجیدہ سیاست کرتے ہوئے کشمیری عوام کی توہین کی۔ "تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کے سیالکوٹ کے وزیر نے جو کشمیریوں کے خلاف بیان دیا ہے کیا وہ آپ کی پالیسی ہے؟ جب تک وہ وزیر کابینہ میں رہے گا ہم سمجھیں گے کہ یہ آپ کی پالیسی ہے۔انہوںنے کہاکہ جو وزیر کشمیر کو اور آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اسے دور کرنا چاہیے۔ اتوار کوکوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئےبلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی 6 ماہ سے آزاد کشمیر میں حکومت ہے، آپ نے پچھلے الیکشن سے بھی بہتر نتائج دلوانے ہیں، ہم آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق میں ہمارے دوست شہباز شریف کی حکومت ہے، منشور کے مطابق گلگت بلتستان والوں سے وعدہ کیا، گلگت بلتستان کے عوام کا مشکور ہوں پیپلز پارٹی کو جیت دلوائی، اب مجھے گلگت بلتستان والوں سے کیا وعدہ پورا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں لاڑکانہ کے ایم این اے کے ساتھ کشمیر کا ایم این اے بھی میرے ساتھ قومی اسمبلی میں ہو، گلگت بلتستان میں پہلی بار وفاق کو شکست ہوئی۔