کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثنااللہ نے جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر حالات خراب کر سکتی ہیں۔ رانا ثنااللہ نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے بارے میں بلاول کا رویہ اچھا نہیں تھا، ان کو ووٹ کے لیے نفرت کی نہیں، بلکہ قومی لیڈر بن کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کسی کو لات مار کر نکالنے کی روایت تھی اور نہ ہے۔بلاول بھٹو کا وزیر دفاع خواجہ آصف کے بارے میں بیان غیر مناسب تھا اگر وہ استعفیٰ کا مطالبہ کرتے تو ٹھیک تھا لیکن لات مارکر نکلانا یہ جملہ درست نہیں ہے، خواجہ آصف اس پر خاموش ہیں جواب نہیں دیا ان کی مہربانی ہے،رانا ثنا ء نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل راٹھور نے کالعدم قرار دیا، وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی حمایت کی، وفاقی حکومت اس فیصلے کی پشت پر کھڑی ہے اور بلاول بھٹو زرداری اشاروں اور باتوں باتوں میں اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ میں جو لوگ دھرنا دیکر بیٹھے ہیں ان کو فورس کا استعمال کرکے اٹھانا مشکل نہیں ہے اور وہاں کی جو صورتحال ہے وہ صرف راولاکوٹ تک محدود ہے باقی آزاد کشمیر میں الیکشن مہم اپنے عروج پر ہے اور آزاد کشمیر کی عوام ووٹ کی طاقت سے جس پارٹی کو مینڈیٹ دینگے وہ آکر ان سارے معاملات کو آئین و قانون کے مطابق حل کریں۔دھرنا میں موجود شرکاء اگر وہاں پر کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوں تو پھر وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ دھرنے کے شرکاء کو انگیج کیا جائے ۔حکومت کی یہ بڑی واضح لائن ہے وہ اس دھرنے کو ختم کریں پھر اگر وہ کسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس پر غور ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس روز لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا اسی دن حکومت کی جانب سے ان سے درخواست کی گئی تھی کہ مذاکرات کا سلسلہ ختم نہ کیا جائے بات چیت جاری رکھیں اورلانگ مارچ کو کچھ عرصہ موخر کرنے کی بھی تجویز دی گئی تاکہ انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوسکیں ۔ان کے تمام مطالبات کو تسلیم کرلیا گیا تھا تاہم نشستوں سے متعلق مطالبے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر مشترکہ فیصلہ کرنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن ان کے بقول قیادت 9جون کو ہر صورت لانگ مارچ کرنے پر بضد رہی ۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر چاہتے تھے کہ 9جون کو مظفرآباد کا گھیراؤ کرکے آزاد کشمیر کی حکومت کو مفلوج کیا جائے اور انتخابی عمل کو متاثر کیا جائے لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ ان میں سے چند لوگوں کا رابطہ بیرون ممالک سے ہے اور وہ ان رابطوں کی بنیاد پر آزاد جموں کشمیر کی تحریک آزاد کو سبوتاژ اور امن و امان خراب کرنا چاہتے ہیں اور ان قوتوں کا تعلق براہ راست انڈیا سندور آپریشن فیز ٹو کا شاخسانہ ہے اور پاکستان کے اداروں کیخلاف نفرت کو ابھرانا چاہتے ہیں خاص طور پر ہماری فوج کا ادارہ جس نے آزاد کشمیر کی تحریک کی کامیابی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانے پیش کیے ہمیشہ دفاع میں پیش پیش رہا ہے اور اس ادارے نے اس وقت ٹوپ لیول پر ایسے سپوت خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے لیکن ہم تمام لوگوں پر الزام عائد نہیں کرتے ان میں چند لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایسی تقاریر کی ہیں اور ان تقاریر کو دھرنا کمیٹی نے آن نہیں کیا اور انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہمارے پلٹ فارمز غلط استعمال کیا ہے اور جو لوگ ہمارے بھائی ہیں جن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ان کو سمجھ آجانا چاہیے اور اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور وہ بیٹھ کر بات کریں اور جو مطالبات رہ گئے وہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور جو مطالبات رہ گئے ان میں مہاجرین کو نمائندگی سے محروم کرنا اور پاکستان کا لفظ نکلانا حلف برداری سے ان مطالبات سے ان کو پیچھے ہٹنا چاہیے ۔