لاہور،فیصل آباد (نیوزرپورٹر،نمائندہ جنگ) حساس ادارے نے بجلی چوری اور فراڈ کیس میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے صنعتکار مالک میاں ادریس کو فیصل آباد الیکٹرک کمپنی کے دو سابق سربراہان سمیت لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کرکے ایف آئی اے فیصل آباد کے حوالے کردیا ہے ملزمان مبینہ طور پر لاہور سے امریکا کے لیے روانہ ہورہے تھے .ملزموں نے نجی کمپنیوں کو غیر قانونی مالی فوائد پہنچائے، خورشید عالم اور احمد سعید اخترکا 5روزہ جسمانی ریمانڈ ،لاہور ایئرپورٹ کے سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے فیصل آباد نے 18جولائی کو مقدمہ درج کرکے ان کے نام ای سی ایل میں شامل کیئے تھے ‘ گزشتہ دوپہر کے بعد ملزمان لاہور سے امریکا روانہ ہونے کے لیے لاہور ایئرپورٹ پہنچے تو انٹیلی جنس بیورو کے حکام نے انہیں حراست میں لے لیا اور ضروری کاروائی کے بعد ایف آئی اے فیصل آباد کے حوالے کردیا گیا. وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر CC-FSD/ACC/35/26 جمعہ کے روز18جولائی2026کو درج کی گئی ہے جس میں ان پر قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کے مبینہ نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں ایف آئی آرمیں فیصل آباد الیکٹرک کمپنی کے6سابق سربراہان‘نیپر ا کے ڈائریکٹرجنرل سمیت13افراد کو نامزد کیا گیا ہے .بتایا گیا ہے کہ ستارہ گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائریکٹرز، ستارہ انرجی لمیٹڈ ، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے بورڈآف ڈائریکٹرکے ارکان کی گرفتاریاں ایف آئی اے سرکل فیصل آباد میں درج جو انکوائری نمبر 27/2015 کی تکمیل کے بعد سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پرکی گئی ہیں. ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے باہمی ملی بھگت سے بجلی کی خرید و فروخت کے معاملات میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے نجی کمپنیوں کو غیر قانونی مالی فوائد پہنچائے، جس سے قومی خزانے کو 11 ارب 96 کروڑ روپے کا مبینہ نقصان پہنچاایف آئی اے تحقیقات کے مطابق ستارہ انرجی لمیٹڈ کو بجلی پیدا کرنے کا لائسنس مخصوص شرائط کے تحت جاری کیا گیا تھا، تاہم کمپنی نے مبینہ طور پر ان شرائط سے تجاوز کرتے ہوئے فیسکو کو بجلی فروخت کی. ایف آئی اے کا موقف ہے کہ اس دوران پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA)، نیپرا کی منظوری، بجلی کے نرخوں اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزیاں کی گئیں ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض سرکاری افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نجی کمپنیوں کو مالی فائدہ پہنچایا، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری نگرانی بھی موثر انداز میں نہیں کی گئی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان جاوید اقبال (حاجی عبدالغفور)‘محمد ایوب حاجی بشیر‘عمران غفور‘محمد ایاز‘مختار اے شیخ‘احمد سعید اعوان‘تنویر صفدر چیمہ (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو)‘خورشید عالم (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو)‘راشد احمد اسلم (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو)‘بریگیڈیئر (ر) طارق رسول (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو)‘رانا عبدالجبار (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو)‘امتیاز حسین بلوچ (سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیسکو) اورایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیپرامحمد رمضان سمیت دیگر شامل ہیں. ایف آئی اے نے ان افراد کے خلاف انسدادبدعنوانی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات، جن میں دھوکہ دہی، جعل سازی، امانت میں خیانت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلی دستاویزات کے استعمال سے متعلق دفعات شامل ہیں، کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ایف آئی اے کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی. فیصل آباد سے ایف آئی اے کے ایک تفتیشی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکسٹائل و کیمیکل انڈسٹری گروپ اور نجی پاورجنریشن کمپنی کے مالک میاں ادریس پر آئی پی پیز فراڈکیس میں30 ارب روپے کی دھوکا دہی کے الزام میں بھی مقدمات قائم ہیں اس کے علاوہ ان پر 12 ارب روپے کی گیس اور بجلی چوری کے الزامات بھی ہیں ایف آئی اے حکام کے مطابق میاں ادریس ‘فیسکو اور محکمہ سوئی گیس کے اعلی افسران کے خلاف انکوائری جاری تھی.ان پر الزام ہے کہ ان کے گروپ آف کمپنیزکے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیسکو انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کر کے سال 2007 سے 2015 کے دوران منظور شدہ نرخوں کے برعکس فیسکو کو انتہائی مہنگی بجلی فروخت کی جبکہ اپنی فیکٹریوں کے لیے فیسکو سے انتہائی سستے نرخوں پر بجلی خرید کر قومی خزانے کو 11.96 ارب روپے کا بھاری نقصان پہنچایا۔