• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری کردار کشی کی جارہی ہے، سن لیں، ڈرونگا نہ سرنڈر کرونگا، فضل الرحمٰن

اسلام آباد(فاروق اقدس) کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے، مولانا فضل الرحمن نے اپنا مقدمہ جمعیت لائرز فورم کی وکلا برادری کے سامنے رکھ دیا،اسلام آباد میں اپنی جماعت کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے ماضی کے مقابلے میں قدر مفاہمانہ اور دھیماطرز عمل اپنایا اور  اپنے موقف کو کم و بیش برقرار رکھتے ہوئے ان ریمارکس کو جنہیں حکومتی وزرا اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں  ان کے اظہار کے لیے شعروں کا انتخاب کیا اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ میں اس ملک کا وفادار ہوں میں نے اس کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہے ہم نے ہمیشہ قانون اور ائین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حساس اور قومی موضوعات پر بھی اپنا موقف بیان کیا ہے جس کا ہم حق رکھتے ہیں ہم 60 سال سے ملک میں فعال سیاست کر رہے ہیں کبھی انتہا پسندی نہیں کی لیکن آج ہمارے قانون کو یرغمال بنا دیا گیا ہے پارلیمنٹ جمہوریت اور آئین کو کمزور کیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جمہوریت کمزور ہوتی ہے تو ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ اس میں سیاست دانوں اور ان کی کوتاہیوں کا کتنا کردار ہے اس کا اصل ذمہ دار کون ہے انتہا پسند شدت پسند بنانا اور دہشت گرد بنانا مغرب کی خواہش ہے اور ہماری ریاستیں ان کی اس خواہش کو پورا کرتی ہیں ہمارا مذہب امن کی بات کرتا ہے دین کی بات کرتا ہے  انسانی حقوق کی بات کرتا ہے جان مال اور عزت آبرو کی بات کرتا ہے مولانا کا شکوہ تھا کہ 2004 تک  ہم سے تمام معاملات پر مذاکرات ہوئے معاہدہ ہوا اور اس پر دستخط بھی ہوئے لیکن اج تک مدارس کے رجسٹریشن کیوں نہ ہوئی مدارس کے اکاؤنٹ کیوں بند ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اپ مدارس کو اشتعال میں لانا چاہتے ہیں پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے اس کا دائرہ کار متعین ہے اگر ہم نے آپ کو اس حوالے سے متوجہ کیا ہے تو اس پر اعتراض کیوں میں آپ کی پالیسیوں سے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کرتا ہوں لیکن از خود تشریح کر کے میری کردار کشی کی جا رہی ہے لیکن سن لیں فضل الرحمن نہ ڈرے گا نہ سرنڈر کرے گا خدانہ کرے اگر میری فوج پر کوئی برا وقت ایا اور فوج  اس کے دفاع کے لیے اگے بڑھی تو میری ان فقیروں( رفقاء) کو اپنے مورچوں میں شانہ بشانہ پائیں گے جے یو ائی فوج نہیں ہے لیکن اس میں ملکی دفاع کے لیے اپنے 200 شہید دیے ہمیں اس بات پر کہ ہم نے اپنے 200 شہدا وطن کے دفاع پر قربان کئے۔

اہم خبریں سے مزید