• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیوریج لائنوں میں صفائی، کارکنوں کو اتارنے پر پابندی عائد کی جائے، ممتاز سماجی شخصیات کا وزیراعظم کو خط

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کی ممتاز سماجی، فلاحی، کاروباری اور شہری حقوق سے وابستہ شخصیات نے وزیراعظم شہباز شریف اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے نام مشترکہ خط ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں سیوریج لائنوں، مین ہولز، نالوں اور سیپٹک ٹینکوں میں صفائی کارکنوں کو اتار کر ہاتھ سے صفائی کرانے کے غیر انسانی اور جان لیوا عمل پر فوری پابندی عائد کی جائے اور اس کی جگہ جدید مشینری کے ذریعے سیوریج کی صفائی کو لازمی قرار دیا جائے۔17جولائی 2026 کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہزاروں صفائی کارکن آج بھی بغیر مؤثر حفاظتی انتظامات کے خطرناک حالات میں سیوریج لائنوں میں اترنے پر مجبور ہیں، جہاں زہریلی گیسوں، آلودہ پانی اور دیگر مہلک عوامل کے باعث ہر سال متعدد کارکن جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا عمر بھر کی معذوری اور بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ اور پنجاب میں واٹر اینڈ سیوریج اداروں کے تحت کام کرنے والے کم از کم 17صفائی کارکن دورانِ ڈیوٹی جاں بحق ہوئے، جبکہ دور دراز علاقوں میں پیش آنے والے کئی واقعات سرکاری ریکارڈ اور میڈیا رپورٹنگ کا حصہ بھی نہیں بن سکے۔خط میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر، پالیسی ہدایت یا مناسب قانون سازی کے ذریعے واضح حکم جاری کیا جائے کہ کسی بھی صفائی کارکن کو سیوریج لائن، مین ہول، نالی یا سیپٹک ٹینک میں صفائی، رکاوٹ دور کرنے یا گندگی نکالنے کے لیے داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے اور ایسے تمام کام صرف جدید مشینری اور مکینیکل آلات کے ذریعے انجام دیے جائیں۔دستخط کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں گٹروں کی صفائی کے لیے انسانوں کو اتارنے کا عمل ختم کیا جا چکا ہے اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بھی مقامی سطح پر تیار کی جانے والی سیوریج صفائی مشینیں دستیاب ہیں جبکہ متعدد ادارے پہلے ہی مشینی نظام اپنا چکے ہیں، جس سے صفائی کارکنوں کی جانوں کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مشینی سیوریج صفائی کا نظام نافذ کرنے سے نہ صرف ہزاروں صفائی کارکنوں کی جانیں محفوظ ہوں گی بلکہ ان کے انسانی وقار کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔
اہم خبریں سے مزید