کراچی (سید محمد عسکری) سندھ حکومت نے ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی اور ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینوں کی تقرری کے لیے عمر کی بالائی حد میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مجوزہ تبدیلی کے تحت عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 62 یا 65 سال کیے جانے کی تجویز آئندہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی، جس کے بعد دونوں عہدوں کے لیے دوبارہ اشتہار جاری کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے جنگ/دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کی تقرری کے لیے جاری کیے گئے اشتہار کے جواب میں 97 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، تاہم اسکروٹنی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مقررہ معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کی تعداد انتہائی کم ہے، جبکہ اہل قرار پانے والے بیشتر امیدوار ماضی میں بھی انہی عہدوں کے لیے درخواست دے چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر سرچ کمیٹی نے کنٹرولنگ اتھارٹی کو باضابطہ خط لکھ کر سفارش کی کہ زیادہ تجربہ کار، اہل اور سنجیدہ امیدواروں کو موقع فراہم کرنے کے لیے عمر کی بالائی حد بڑھا کر 65 سال کی جائے۔ اسماعیل راہو کے مطابق اس سفارش کی روشنی میں محکمہ نے سمری وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ارسال کی، جنہوں نے اس معاملے کو آئندہ صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد دونوں بورڈز کے چیئرمینوں کی تقرری کے لیے نیا اشتہار جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن امیدواروں نے پہلے ہی درخواستیں جمع کرا دی ہیں، انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کی سابقہ درخواستیں بدستور قابل غور رہیں گی۔ صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ دونوں بورڈز میں چیئرمینوں کی تقرری کے بعد دیگر اہم انتظامی عہدوں، جن میں ناظم امتحانات، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران شامل ہیں، پر بھی تقرریاں عمل میں لائی جائیں گی تاکہ تعلیمی بورڈز کی انتظامی مشینری کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان عہدوں پر تقرری سرچ کمیٹی کے ذریعے نہیں بلکہ متعلقہ بورڈ کی اپنی سلیکشن کمیٹی کرے گی، جو بورڈ کے اندر موجود افسران کی سینیارٹی، اہلیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرے گی۔ اگر کسی بورڈ میں مطلوبہ اہلیت کے حامل افسران دستیاب نہ ہوئے تو ان آسامیوں پر کھلے اشتہار کے ذریعے بیرونی امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ ادہر تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں نتائج کی تبدیلی کی شکایات عام ہیں اور رہی سہی کسر جامعات اور میڈیکل ٹیسٹ پوری کردیتے ہیں جہاں اے ون گریڈ کے حامل طلبہ ٹیسٹ پاس ہی نہیں کرپاتے چنانچہ اس تناظر میں تعلیمی بورڈز کے کنڑولرز، سکریٹریز اور آڈٹ افسران کی تقرری بھی سرچ کمیٹی کے زریعے کی جائے تاکہ تعلیمی بورڈز میں میرٹ پر وسیع اور تجربہ کار امیدوار تعینات ہوسکیں۔