پشاور ( لیڈی رپورٹر) یوم شہداء پر سیاہ جھنڈے لہرانے اور احتجاجی کیمپ لگانے کا عندیہ۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے اور وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرنے والے ضلع خیبر کے 138 شہداء جن میں خاصہ دار اور لیویز کے شہداء شامل ہیں کے خاندانوں نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے وقت کیے گئے شہداء پیکج کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ پشاور پریس کلب میں شہداء کے خاندانوں نے گزشتہ روز ایران شاہ آفریدی کی قیادت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والے ہمارے شہداء کے بچے تعلیم سے محروم ہیں بیوہ خواتین کو اس وقت نہ پیکج مل رہا ہے اور نہ انہیں کوئی تحفظ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے خیبر پختون خوا اسمبلی کے سامنے شہداء کی فیملیز کے لیے جو احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اس کے بعد وزیراعلی کے فوکل پرسن نے ہمیں سی ایم ہاؤس میں وزیراعلی سے ملاقات کے لیے بلایا تھا لیکن وزیراعلی نے ہمیں تین گھنٹے چار مختلف کمروں میں بٹھانے کے بعد کچن میں بند کر کے دوسرے دروازے سے غائب ہو گئے۔ جو پختون روایات کے سخت خلاف ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 138 خاندانوں کو شہداء پیکج کی بحالی کا اعلان کریں بصورت دیگر چار اگست یوم شہداء کے موقع پر تختہ بیگ جمرود کے مقام پر پر امن احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور یوم شہداء کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کالے جھنڈے لہرائے جائیں گے۔