• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: مجھے ڈالر خریدنے کی ضرورت پیش آئی تو ایک منی ایکسچینج والے سے ڈالر کا ریٹ معلوم کیا، انھوں نے کہا کہ نقد میں خریدیں تو 278 پاکستانی روپے میں ملے گا، میں نے ایک ماہ ادھار کا کہا تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، ایک ماہ کے ادھار پر لینا ہے تو 300 روپے فی ڈالر کے حساب سے چیک بنادیں۔

آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں اس طرح معاملہ کرلوں؟ شریعت میں اس کی اجازت ہے؟ اگر یہ جائز نہیں ہے تو متبادل صورت بتادیجیے، کیوں کہ مجھے ڈالر کی فوری ضرورت ہے، لیکن ادائیگی کے لیے فی الحال رقم نہیں ہے؟

جواب: کرنسی کی کرنسی کے عوض خرید و فروخت اصطلاحی اعتبار سے "بیعِ صرف" کہلاتی ہے، اور بیعِ صرف درست ہونے کے لیے یہ شرط لازمی ہے کہ دونوں جانب سے رقم کا تبادلہ دست بدست ہو اور اسی مجلس میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ مکمل ہو جائے، صورتِ مسئولہ میں چوں کہ ادائیگی ادھار ہے، اس لیے یہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے، خواہ چیک ابھی سے بنا کر دے دیا جائے، کیوں کہ ادائیگی ایک ماہ بعد ہی ہوگی۔ (ردّالمحتار، کتاب البیوع، باب الصرف،ج:5،ص:257، ط:سعيد)

اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ آپ ڈالر خریدنے کے بجائے قرض کے طور پر لے لیجیے، اور جن صاحب سے ڈالر قرض لیں، ان سے یہ طے کرلیں کہ واپسی پر بھی ڈالر ہی ادا کروں گا۔

پھر جب قرض کی ادائیگی کا وقت آئے گا اس وقت ڈالر میں ہی قرض واپس کیجیے گا، خواہ ڈالر کسی بھی قیمت میں ملے، تاہم اگر اس وقت قرض خواہ پاکستانی روپے میں قرض کی واپسی پر راضی ہو تو اس وقت بازار میں ڈالر کی جو قیمت چل رہی ہو، اس کے مطابق قرض ادا کرسکتے ہیں۔

اقراء سے مزید