تفہیم المسائل
(۲)عرفاً تحائف مشروط ہوتے ہیں کہ آنے والا تحفہ لیے بغیر نہیں آئے گا، پھر ان تحائف کا تبادلہ بھی لازم قرار پاتا ہے یعنی آپ کے ہاں کوئی تحفہ لے کر آیا ہے، تو آپ جب اس کے ہاں اس قسم کی کسی تقریب میں جائیں گے تو تحفہ لازماً لے جانا ہوگا، تحفہ نہ دینے اور عدمِ شرکت پر خاندانی ناراضیاں پیداہوتی ہیں۔
(۳) لڑکی کے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑتا ہے اور جتنا زیادہ سامان (پھل، میوہ، کپڑے) تحائف دیئے جاتے ہیں، اُسے خاندان میں قابلِ رشک مانا جاتا ہے بلکہ ناک اونچی ہونا قرار دیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں سونے کے زیور دینا بھی ضروری خیال کیاجاتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ شریعت کی بتائی ہوئی رسم نہیں ہے ،بلکہ ایک خاندانی اور سماجی رسم ہے ۔ ایسی خاندانی اور سماجی رسوم جن میں اگر خلافِ شرع کام مثلاً :بے پردگی، بیہودگی، ناچ گانا یاخلافِ شرع عقائد شامل نہ ہوں، جبری تحائف وصول نہ کیے جاتے ہوں، ناچ گانا، بے پردگی، مرد وزن کامخلوط اجتماع یا اور کسی قسم کا گناہ کا کام شامل نہ ہو، تو اسے محض ایک ثقافتی تقریب سمجھ کر کرنے کی گنجائش ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلویؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور جو امور عادات و رواج کے متعلق تھے، تو اس کے آداب بیان کیے اور اس کی وہ ناپسندیدہ جہات بیان کیں، جن کی بدولت بری رسوم میں پڑنے سے بچا جاسکے۔
بری رسوم سے روکا اور اچھی رسوم کا حکم دیا اور جو اعتقادی و عملی رسوم فترۃِ وحی کے دور میں متروک ہو گئی تھیں، اُنہیں نئے روپ میں اپنی اصلی شکل میں متعارف کرایا۔ اس طرح انسانیت پر اللہ کی نعمت کی تکمیل ہوئی اور اس کا دین قائم ہوا،(حُجّۃ اللہ البالغۃ، جلد:1،ص:218)‘‘۔
یہ رسم مختلف خاندانوں میں مختلف انداز سے کی جاتی ہے، بعض جگہ محفلِ میلاد، قرآن خوانی ودعا اور مجالسِ درس کا اہتمام کیا جاتا ہے، یہ نزولِ رحمت و برکت کا سبب ہے۔ اسلام میں بچے کی پیدائش پر خوشی منانے کا مسنون طریقہ ’’عقیقہ ‘‘ ہے، جو بچے کی پیدائش کے ساتویں روز کیا جاتا ہے، بچے کے لیے خیر وبرکت، صحت وسلامتی کی دعائیں کی جاتی ہیں، حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی پیدائش کے بعد انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئیں اور آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیا: ترجمہ:’’ آپ ﷺ نے ایک کھجور منگوائی اور اسے اپنے دہنِ مبارک میں چبایا، پھر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے منہ میں اپنا لعاب ڈالا، پس پہلی چیز جو حضرت ابن زبیرؓ کے پیٹ میں پہنچی ،وہ رسول اللہ ﷺ کا مبارک لعاب تھا، پھر آپ نے ان کو کھجور کی گھٹی دی (یعنی کھجور چباکر نرم کرکے ان کے منہ میں ڈالا) پھر ان کے لیے برکت کی دعاکی اوریہ پہلے بچہ تھے، جو زمانۂ اسلام میں (مدینہ منورہ میں)پیدا ہوئے، تو مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ مسلمانوں سے یہ کہاگیا تھاکہ یہود نے تم پر جادو کردیا ہے، اب تمہارے ہاں اولاد نہیں ہوگی ،( صحیح بخاری:5469)‘‘۔
آپ نے سوال میں جس نئے رجحان کا ذکر کیا ، یہ یورپ کی ایجاد ہے، جسے وہ اپنی ثقافت کے مطابق مناتے ہیں، ایسی رسوم، جس میں مردوزن کا اختلاط ہو، بے پردگی وبیہودگی کے مظاہرے ہوں، اُن رسوم کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، ان رسوم کو لازمی قرار دینا اور رشتے داروں سے تحائف کی وصولی اس رسم کا لازمی جزو بنانا ظلم وزیادتی ہے، لڑکی کے خاندان والوں کو تحائف دینے پر مجبور کرنا یا نہ دینے پر طعن کرنا خلافِ شرع ہے، البتہ برضاورغبت تحائف کے لین دین کو حدیث پاک میں محبت کا ذریعہ بتایاگیا ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ باہم مصافحہ کرو (اس کی برکت سے ) کینہ نکل جائے گا ،ایک دوسرے کو تحائف دیا کرو (اس کی برکت سے ) باہمی محبت پیدا ہوگی اور کینہ وبغض نکل جائے گا، ( مؤطاامام مالک:3368)‘‘۔
آپ نے سوال میں لکھا :’’لڑکی کے گھر والوں کو پابند کیاجاتا ہے کہ وہ پھلوں اور میوہ جات کا ٹوکرا، کپڑے اور مزید جو کچھ دے سکیں، اس رسم میں لے کر آئیں‘‘، یہ پابندی بے جا اورخلافِ شرع ہے ،یہ بلاوجہ کسی پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنا ہے، حدیث پاک میں اس کی مذمت آئی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’سنو! ظلم نہ کرو ، سنو کسی مسلمان کا مال اُس کی خوش دلی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے ،(شُعَبُ الایمان للبیہقی :5105)‘‘۔
مزید یہ کہ تین مختلف مواقع (گودبھرائی ، چھٹی اور سوا مہینہ پورا ہونے )پر یہ سامان طلب کرنا مزید ظلم ہے، اگر کوئی شخص صاحبِ حیثیت بھی ہے ،تو یہ بے جا اسراف ہے۔ یہ تمام پھل، میوہ جات لڑکی کے والدین کی طرف سے ہوتا ہے ،پھر رسم کے موقع پر لڑکی کی جھولی میں ڈالا جاتا ہے ، یہ واضح ثبوت ہے کہ یہ تمام سامان لڑکی کی ملکیت ہے، اس پر شوہر سمیت کسی کوبھی اس کی اجازت کے بغیر تصرُّف کا حق حاصل نہیں ہے، لڑکے والوں کا اُس سامان کو اپنے قبضہ اور تصرُّف میں لینا’’ غصب ‘‘ ہے، اس پر وہ گنہگار ہوں گے، لڑکی اس میں سے کچھ نہیں کھائے گی، یہ پابندی بھی سراسر خلافِ شرع ہے، کیونکہ اس تمام سامان کی مالک وہی ہے، اُس کی اجازت کے بغیر کوئی اس میں تصرُّف نہیں کرسکتا، اپنی خوشی سے وہ جسے چاہے دیدے، لڑکے کی طرف سے دیا جانے والا بری کا سامان لڑکی کی مِلک ہوجاتا ہے، اِسی طرح وہ سامان جو لڑکی کے والدین کی طرف سے دیاجارہا ہے، یقینی طورپر لڑکی کی ملکیت ہے، امام احمد رضا قادری فرماتے ہیں:’’دلہن کا گہنا جوڑا جو بری میں جاتا ہے، اگر نصّاً یا عرفاً اس میں بھی تملیک ہوتی ہو، جیسے شکر، میوہ، عطر پھل وغیرہ میں مطلقاً ہوتی ہے، تو وہ بھی قبضۂ منکوحہ، ملکِ منکوحہ ہوگا، ہمارے یہاں شرفاء کا عرفِ ظاہر یہی ہے، (فتاویٰ رضویہ، جلد 12، ص:208)‘‘۔