• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میں نے ایک شخص کو اپنی دکان 20 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دی، اس نے وہ دکان آگے کسی کو 25 ہزار روپے ماہانہ پر دے دی ہے، کیا اس شخص کے لیے کرایہ بڑھا کر آگے کرائے پر دینا جائز ہے، جب کہ کرایہ دار مجھ سے یہ کہتا ہے کہ جس شخص کو دکان کرائے پر دی گئی ہے، وہ میرا پارٹنر ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اجارہ (کرایہ داری) کا عقد مکمل ہو جائے تو کرایہ دار کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ کرائے کی چیز (مثلًا: دکان) خود استعمال کرے یا کسی دوسرے کو کرایہ پر دے دے، البتہ اگر دوسرے شخص کے استعمال کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو پہلا کرایہ دار اسے آگے کرائے پر نہیں دے سکتا، نیز کرایہ دار نے جو چیز کرایہ پر لی ہو اگر اس میں تعمیر و مرمت کا کوئی کام کروایا ہو تو وہ کرائے کی چیز اضافی کرائے پر بھی آگے دے سکتا ہے، اور اگر کوئی تعمیراتی کام نہ کروایا ہو تو اس کے لیے اصل کرائے سے زائد پر وہ چیز دوسرے کو دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ البتہ اگر اصل کرایہ دار کرائے میں طے کردہ مال (مثلاً: پاکستانی روپے) کے علاوہ کسی دوسری جنس کا مال (مثلًا: گندم وغیرہ) کرائے میں طے کرکے دوسرے کرایہ دار سے معاملہ کرے تو یہ مطلقًا جائز ہوگا، خواہ اصل کرایہ دار نے دکان میں تعمیر و مرمت نہ کرائی ہو۔

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے کرایہ دار نے دکان میں کوئی تعمیر و مرمت کی ہے، مثلاً ٹائل ماربل وغیرہ لگوائے ہیں یا رنگ و روغن کیا ہے یا الماری وغیرہ بنائی ہے تو وہ اسے اضافی کرائے پر آگے دے سکتا ہے، اور اگر اس نے کوئی اضافی تعمیر نہیں کی ہے تو اس کے لیے یہ دکان اضافی کرائے پر آگے دینا جائز نہیں ہے۔ (الأصل لمحمد بن الحسن، کتاب الاجارات، باب اجارۃ الدور والبيوت ،ج:3، ص: 463، ط:دار ابن حزم ۔بيروت -الفتاوی الھنديۃ، الباب السابع فی اجارۃ المستأجر، کتاب الاجارۃ، ج:4،ص: 425،ط:دار الفکر بيروت)

اقراء سے مزید