ڈاکٹر نعمان نعیم
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کےفضل واحسان سے خود کو محروم سمجھنا ’’مایوسی ‘‘ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ ‘‘ (سورۃ الزمر:۵۳)ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’اپنے ربّ کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے۔‘‘(سورۃ الحجر: ۵۶) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بےشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے، مگر کافر لوگ۔‘‘ (سورۂ یوسف: ۸۷)
حدیث مبارکہ میں ہے، مایوسی کبیرہ گناہ ہے: آپ ﷺ سے سوال کیا گیا :’’کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟‘‘ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ َ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا، یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو کر گناہوں میں مشغول ہوجانا ناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
مایوسی کا پہلا سبب جہالت ہے کہ بندہ اپنی جہالت اور کم علمی کے سبب رحمت الٰہی سے مایوسی جیسے موذی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دنیوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کرے، قرآن وحدیث کا علم حاصل کرے، جہنم میں لے جانے والے اعمال اور ان پر ملنے والے عذاب پر غور وفکر کرے، تاکہ اس کے دل میں خوف آخرت پیدا ہو، جنت میں لے جانے والے اعمال اور ان پر ملنے والے عظیم اجروثواب پر نظر رکھے تاکہ اللہ کی رحمتِ کاملہ پر اس کا یقین مزید پختہ ہوجائے اور مایوسی اس سے دور بھاگ جائے۔
مایوسی کا دوسرا سبب بے صبری ہے۔ کسی آزمائش یا مصیبت پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واویلا کرنے سے رحمتِ الٰہی سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مصیبتوں پر صبر کرنے کی عادت ڈالے کیوں بے صبر ی کی وجہ سے نکلنے والے کلمات بسا اوقات ’’کفریات‘‘پر مشتمل ہوتے ہیں جو ایمان کو برباد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
کسی بھی تکلیف یا مصیبت پر بندہ یہ ذہن بنائے کہ اللہ نے مجھے اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو میں اس پر بے صبری کا مظاہرہ کرکے اجر وثواب کیوں ضائع کروں ؟ بلکہ میں اس کی رحمتِ کاملہ پر نظر رکھوں اور اس مصیبت یا پریشانی سے نجات کے لیے اس کی بارگاہ میں التجا کروں۔
مایوسی کا تیسرا سبب دوسروں کی پُر آسائش زندگی پر نظر رکھنا ہے۔جب بندہ کسی کی پُرآسائش زندگی پر غور وفکر کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی پر سخت تشویش ہوتی ہے یوں بندہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر غور وفکر کرے، ربّ کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعت اختیار کرے، یہ ذہن بنائے کہ جس ربّ نے اسے پٍُرآسائش زندگی عطا فرمائی ہے یقیناً وہ رب مجھے ویسی ہی زندگی عطا کرنے پر قادر ہے لیکن یہ اس کی مشیت ہے اور میں اس کی مشیت پر راضی ہوں۔ نیز بندہ اس بات پر بھی غور کرے کہ جو شخص دنیا میں جتنی بھی پُرآسائش زندگی بسر کرے گا ہوسکتا ہے کل بروز قیامت اسے اتنا ہی سخت حساب وکتاب دینا پڑے، لہٰذا پرآسائش زندگی کی خواہش کرنے کے بجائے سادہ طرزِ زندگی اپنانے ہی میں عافیت ہے۔
مایوسی کا چوتھا سبب بری صحبت ہے۔ جب بندہ ایسے دنیا دار لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو خود مایوسی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی صحبت کی وجہ سے یہ بھی مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سب سے پہلے ایسے لوگوں کی صحبت ترک کرکے نیک پرہیزگار اور متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرے، اللہ والوں کے پاس بیٹھے تاکہ مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں اور رحمت الٰہی پر یقین کی بارش نازل ہو۔
جب ہم سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دین کی خاطر تمام نبیوں میں سب سے زیادہ ہمارے پیارےنبی کریم ﷺ کو ستایا گیا، تکلیف دی گئی، وہیں دوسری طرف صحابہ کرامؓ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم نے حضرت محمدﷺ سے زیادہ متبسم شخصیت کوئی اورنہیں دیکھی۔ پوری سیرت النبی ﷺ میں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوئے ہوں۔ بلکہ آپﷺ نے ہمیشہ کوشش کی کہ اللہ کی رحمت سے لو لگی رہے اور مایوسی مسلمانوں کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائے۔
یہی وہ اسلامی تعلیمات ہیں جو ایک مسلمان کے دل میں ہمیشہ امید کا دیا روشن کرنے کے لئے کافی ہیں کہ حالات چاہے کچھ ہوں، انسان امید کا دامن نہ چھوڑے اور اپنے رب سے اس بات کی توقع رکھے کہ جو ہوگا خیر ہوگا۔ بہت سارے لوگ اس موقع پر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم پر مصیبت آئی ہی اتنی بڑی ہے کہ اب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا جاتا ہے۔
اس موقع پر جہاں اسلامی تعلیمات ہمیں مصیبت کے اولین مرحلے ہی سے صبر کا دامن تھام لینے کی تاکید کرتی ہیں، وہیں حوصلہ بڑھانے کے لئے یہ خوشخبری بھی دیتی ہیں کہ انسان کی جتنی بڑی آزمائش ہوگی، اتنا ہی بڑا اجر اس پر(صبر کرنے پر) ملے گا۔ (جاری ہے)