ڈاکٹر اقبال احمد اختر القادری
احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات ارضی کے بچھانے کا آغاز مکۂ مکرمہ کی سرزمین سے ہوا ، اسی لیے یہ خشکی کے علاقے کے اعتبار سے عین وسط کائنات میں واقع ہے… پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو انسانوں سے بسانا چاہا تو اس دنیا میں پہلا گھر جو بنایا گیا، وہ ’کعبۃ اللہ ‘ ہے، اس طرح کعبۃ اللہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے مرجع و ماویٰ کی حیثیت رکھتا ہے، اگر انسان یہاں پہنچ کر ایک قلبی سکون اور روحانی مسرت محسوس کرے تو یہ وہی فطری احساس ہوگا، جو سفر سے اپنے گھر لوٹنے والے انسان کو ہوتا ہے…اسی لیے اسلام میں دو فرض عبادتیں ایسی ہیں جو کعبۃ اللہ سے جڑی ہوئی ہیں، ایک یہ کہ مسلمان جہاں کہیں بھی نماز پڑھے، اس کا رخ کعبے کی طرف ہوتا ہے اور دوسرا حج سوائے مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات کے کہیں اور ادا ہی نہیں کیا جاسکتا۔
حج کے علاوہ دوسری عبادت جس میں انسان کو زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل ہوتی ہے،وہ سعادتِ عمرہ ہے، حج کی ترغیب دیتے ہوئے قرآن کریم میں عمرہ کا بھی ذکر کیا گیا، فرمایا:وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ”اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو“۔
” عمرہ“ کے اصل معنیٰ زیارت وملاقات کے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں مخصوص طریقے پر بیت اللہ شریف کی زیارت وطواف اور صفا مروہ کی سعی کوعمرہ کہتے ہیں… چوںکہ بیت اللہ شریف کی زیارت ایمان کو تازہ کرتی ہے، اس لیے عمرہ کی بڑی فضیلتیں منقول ہیں…چنانچہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بیت اللہ شریف کو آئے اور کوئی شہوانی کام اور گناہ نہ کرے تو وہ اس طرح لوٹتا ہے کہ جس طرح وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے اسی مضمون کی ایک اور روایت منقول ہے، اس میں حج اور عمرہ دونوں کی صراحت موجود ہے کہ جو کسی شہوانی حرکت اور گناہ سے بچتے ہوئے حج کرے گا، وہ اپنے گھراس طرح لوٹے گا کہ گویا وہ آج ہی پیدا ہواہے۔ ایک اور روایت میں ہے: جو بیت اللہ شریف کو آئے اور اس کا مقصد اسی گھر کی زیارت ہو اورطواف کرے تو وہ اپنے گناہ سے اس طرح پاک ہوجائے گا، جیساکہ اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔
حضور اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ایک عمرہ کے بعد جب انسان دوسرا عمرہ کرتا ہے تو یہ دوسرا عمرہ درمیان کے گناہوں کے لیے کفّارہ بن جاتا ہے۔ البتہ اس حدیث شریف میں گناہ سے مراد صغیرہ گناہ ہیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا: جن باتوں سے تم کو منع کیا گیا ہے، اگر تم ان میں سے بڑی بڑی باتوں سے بچ جاؤ تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کردیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓاورحضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا: حج و عمرہ پے درپے کرتے رہو، یہ فقر و محتاجی کو اس طرح دور کردیتے ہیں، جس طرح بھٹی لوہے کے میل و کچیل کو دور کردیتی ہے۔ حج و عمرہ کے روحانی اور مادّی فوائد میں یکسانیت کی وجہ یہ ہے کہ بیت اللہ شریف سے متعلق طواف و سعی اور تلبیہ واحرام کا جو عمل حج میں ہوتا ہے، وہ عمرہ میں بھی ہوتا ہے، اسی لیے حضور ﷺنے عمرہ کو حج اصغر قرار دیا ہے۔
یہ تو عمرہ کی عمومی فضیلت ہے… رمضان المبارک میں چوںکہ ہر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اس لیے اس ماہ مبارک میں عمرہ کرنے کا اجر بھی زیادہ ہو جاتا ہے، چنانچہ روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک انصاری خاتون اُمّ سنانؓ حجۃ الوداع میں حضوراکرمﷺ کے ساتھ حج میں شریک نہیں ہوسکی تھیں، بعد میں حضور اکرم ﷺ نے ان سے سبب پوچھا، تو انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس دوہی اونٹ ہیں، ایک اونٹ میرے شوہر اور بیٹا لے کر چلے گئے اور آپ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی اور دوسرا اونٹ پانی لانے اور دوسرے کاموں میں استعمال ہوتا ہے…اس عورت کا جواب سن کرحضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا، کیوںکہ رمضان کا عمرہ بھی حج کے برابر ہے۔ بعض روایتوں میں اس سے بھی بڑھ کر بشارت آئی ہے کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا خود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے درجہ میں آتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کو ہجرت کے بعد رمضان المبارک میں عمرہ کا موقع نہیں ملا اور اہل مکہ سے ناخوش گوار تعلقات کی وجہ سے مدنی زندگی میں حضورﷺ اور آپﷺ کے رفقاء کا بار بار عمرہ کرنا ممکن بھی نہیں تھا، لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واقعۂ حدیبیہ کو لے کر چار عمرے فرمائے تھے، پہلا ۶ھ میں، جب آپ ﷺ حدیبیہ تشریف لائے اور وہاں صلح طے پائی، یہ عمرہ نامکمل رہا، کیوںکہ مشرکین مکہ کی رکاوٹ کی وجہ سے آپ ﷺ عمرہ نہ کرپائے، دوسرا عمرہ آئندہ سال اس عمرہ کی قضاء کے طور پر، اسے’’عمرۃ القضاء‘‘کہا جاتا ہے، تیسرا عمرہ فتح مکہ کے موقع سے، جب آپ ﷺ نے اس موقع پر حج قِران کا احرام باندھا تھا، جس میں حج و عمرہ دونوں جمع ہوتے ہیں۔
عمرہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے بعض فقہاء نے عمرہ کو واجب قرار دیا ہے،فقہائے حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک اگرچہ عمرہ سنّت مؤکدہ ہے، لیکن بعض مشائخ احناف نے عمرہ کو واجب بھی قرار دیا ہے، مشہور حنفی فقہی علّامہ کاسانی کا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ اگر آسانی اور اسباب میسر ہیں تو انسان پر عمرہ واجب ہے۔
اس لیے جو مسلمان اصحابِ استطاعت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کواتنی مالی گنجائش دی ہے کہ بآسانی اخراجات ِعمرہ اُٹھا سکتے ہیں تو انہیں لازمی عمرہ کرنا چاہیے، لہو و لعب میں پیسے ضائع کرنے کی بجائے عمرہ کی سعادت حاصل کرنا بہتر ہوگا… اس میں یہ بھی ضروری ہے کہ عمرہ کو عبادت کا سفر بنایا جائے، نہ کہ سیر و تفریح کا… آج کل عمرہ کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس طرح عمرہ کرتی ہے کہ گویا وہ کسی سیاحتی سفر پر جارہے ہوں، نہ عبادت کا اہتمام، نہ خشوع و خضوع، نہ آنے کے بعد زندگی میں کوئی تبدیلی، نہ اخلاق و کردار میں کوئی انقلاب، بعض تو عمرہ کرکے آنے کے باوجود نماز کی پابندی بھی نہیں کرتے دکھائی دیتے، غرض کہ عمرہ ان کے قلب و روح کے لیے کوئی انقلاب انگیز عمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان کے لیے ایک تفریح ہوتی ہے…اللہ کریم ہر مسلمان کو سعادت عمرہ اور زیارت روضۂ اقدس نصیب فرمائے ۔(آمین)