تفہیم المسائل
سوال: ہمارے یہاں ایک مدرسہ تھا، جس میں بچے دینی تعلیم حاصل کرتے تھے، عوام سے زکوٰۃ وفطرہ اور صدقات کی مد میں عطیات وصول کیے جاتے تھے، لیکن پچھلے کافی عرصے سے وہ مدرسہ مستقل طور پر بند پڑا ہے، اب وہاں کوئی بچہ زیرِ تعلیم نہیں ہے۔ اس زمانے کا جمع شدہ چندہ (رقم)محفوظ ہے اور ویسے کا ویسا ہی رکھا ہوا ہے۔
اتنے سال گزر جانے کی وجہ سے اب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ چندہ کن کن لوگوں نے دیا تھا۔ اب ہمارے پڑوس میں اہلسنّت و جماعت کا ایک اور دوسرا مدرسہ جاری ہے، جہاں بچے اور بچیاں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مسجدکی موجودہ کمیٹی اور اہل علاقہ یہ چاہتے ہیں کہ بند پڑے مدرسے کی وہ محفوظ رقم اس مدرسے کو دے دی جائے، تاکہ وہ دین کے کام میں استعمال ہو سکے۔
کیا یہ رقم کسی دوسرے جاری مدرسے کو دینا شرعاً جائز ہے؟چونکہ چندہ دینے والوں کا پتا نہیں ہے، تو اس رقم کو صحیح جگہ استعمال کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟(محمد یاسین (صدر)و اراکین مسجد کمیٹی و اہل محلہ، مسجد غوثیہ، غوثیہ کالونی، تاندلیانوالہ روڈ، سمندری، ضلع فیصل آباد)
جواب: عام فقہی ضابطہ یہی ہے کہ عطیات جس مصرف کے لیے ہوں، وہیں صرف کیے جائیں، اُس کے غیر میں صَرف کرنا جائز نہیں ہے۔ کسی خاص مقصد کو متعین کرکے عطیات وصول کیے جائیں، تو وہ کسی دوسرے مقصد میں استعمال کرناجائز نہیں ہے، علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ وقف کرنے والوں کے مقصد(ومصرف) کی رعایت کرنا واجب ہے، (حاشیہ ابن عابدین شامی، جلد 4،ص:445)‘‘۔
امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ لکھتے ہیں:’’ چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے، لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصۂ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لیے اب اجازت دیں اُس میں صرف ہو، بے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے، ہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہیے کہ جس طرح کے کام کے لیے چندہ لیا تھا، اُسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیں، مثلاً: تعمیر مسجد کا چندہ تھا، مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیں، غیر کام، مثلاً: تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریں اور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں، درمختار میں ہے: ترجمہ:’’ اگر چندہ سے کچھ بچ جائے تو دینے والا اگر معلوم ہو تو اسے واپس کیا جائے گا، ورنہ اُس جیسے فقیر کے کفن پر صرف کیا جائے یا صدقہ کردیاجائے‘‘،(فتاویٰ رضویہ، جلد16،ص:206)‘‘۔
آپ کی انتظامی کمیٹی نے مدرسے کے لیے صدقاتِ نافلہ اور صدقاتِ واجبہ( زکوٰۃ، فطرہ، فدیہ وکفارات) کی مَد عطیات وصول کیے،اب چونکہ مدرسہ ختم ہوچکا، اُس رقم کا مصرف باقی نہیں رہا، تو اس کے ضائع ہونے کے اندیشہ کے پیشِ نظر اُس رقم کے حقیقی مصرف میں صَرف کرنا ضروری ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ آپ جس مدرسے کو یہ عطیات دے رہے ہیں، وہ صدقاتِ واجبہ کا مصرف ہو یعنی وہاں ضرورت مند مستحق طلبہ پڑھتے ہوں، جن کی کفالت اس رقم سے کی جائے، تو آپ یہ رقم اُس مدرسے کو دے سکتے ہیں۔
مذکورہ مدرسے کے نام پر جو رقم جمع ہے، اگر صدقاتِ واجبہ (زکوٰۃ، فطرہ، فدیہ، نذر وغیرہ) کی ہے، تو یہ رقم اس مدرسے میں دیں ، جہاں مسافر اور مستحق اقامتی طلبہ ہیں اور تعلیم حاصل کررہے ہیں، کیونکہ وہی صدقاتِ واجبہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسا مدرسہ جس میں اہلِ محلہ کے بچے حفظ یا ناظرہ قرآن کریم پڑھ رہے ہوتے ہیں اور وہ پڑھ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں، وہ اس کے مستحق نہیں ہوتے، البتہ نفلی صدقات وعطیات آپ ان پر بھی صرف کرسکتے ہیں۔