• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: درخت پر موجود پھلوں کی بیع کے جواز و عدم جواز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز "بدو ّصلاح" کی وضاحت بھی کردیجیے۔

جواب: درختوں پر لگے پھلوں کی خرید وفروخت شرعاً جائز ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ درخت پر پھل ظاہر ہوچکے ہوں، جب تک پھل ظاہر نہ ہوں، اس وقت تک پھلوں کی بیع جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ معدوم (غیر موجود) کی بیع ہے، جو کہ جائز نہیں ہے۔

البتہ پھل ظاہر ہوکر آفت سے محفوظ ہوجائیں تو انھیں فروخت کرنا جائز ہے، اگرچہ پک کر تیار نہ ہوئے ہوں، اسی کو "بدّو صلاح" کہا جاتا ہے یعنی پھل ظاہر ہو کر اس حالت میں پہنچ جائیں کہ آفت اور خرابی سے محفوظ ہو جائیں۔

نیز پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے کی صورت میں اگر بیچنے والے نے فوری طور پر پھل توڑنے کی شرط لگائی ہو، یا اس نے پھل کاٹنے یا نا کاٹنے سے متعلق کوئی شرط نہ لگائی ہو، بلکہ مطلق سودا کیا ہو، تو ان دونوں صورتوں میں بھی بیع جائز ہوتی ہے، اس کے بعد اگر بیچنے والا اپنی رضامندی سے پھل کے پکنے یا کسی اعتبار سے قابلِ انتفاع ہونے تک درخت پر چھوڑ دے تو یہ بھی جائز ہے۔

لیکن اگر سودا کرتے وقت پھل پکنے تک درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی تو یہ شرط فاسد ہے، خرید و فروخت کے معاملے میں ایسی شرط لگانا جائز نہیں ہے، لہٰذا فروخت کنندہ اگر پھل پکنے سے پہلے اتارنے کا کہے تو خریدار پھل اتارنے کا پابند ہوگا، عرف کی بنیاد پر فروخت کنندہ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ (ردّ المحتار، کتاب البيوع، مطلب فی بيع الثمر والزرع والشجر مقصودا، 4/ 554-555، ط: سعید ۔ الفتاویٰ الھنديۃ، کتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل الثانی فی بيع الثمار وإنزال الکروم والأوراق والمبطخۃ، 3/ 106، ط:رشيديۃ)

اقراء سے مزید