آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ایک دوست مجھے کہہ رہا ہے کہ مجھے قسطوں پر موبائل خرید کر دو تو میرے پاس اپنے پیسے پڑے ہوئے ہیں۔ میں کون سا شرعی طریقہ اختیار کروں کہ میں اپنے ان پیسوں سے فائدہ بھی اٹھا لوں اور اسے ان سے قسطوں میں موبائل کے پیسے واپس لیتا رہوں؟ کون سا طریقہ اختیار کروں کہ اس کا موبائل بھی آجائے اور مجھے بھی پرافٹ مل جائے یا مجھے فائدہ بھی حاصل ہو جائے؟
جواب: بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے دوست کو قرضِ حسنہ دے کر صرف دی گئی رقم ہی واپس لیں، لیکن اگر آپ اپنی رقم پر کچھ نفع کمانا چاہتے ہیں تو اس کی جائز صورت یہ ہے کہ آپ موبائل خرید لیں اور پھر ادھار قسطوں پر وہ موبائل اپنے دوست پر بیچ دیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ آپ کل قیمت، قسطوں کی تعداد اور ہر قسط کی رقم متعین کردیں اور تاخیر پر جرمانہ نہ لیں اور نہ ہی قسطیں جلد ادا کرنے پر رقم معاف کرنے کی شرط لگائیں۔
اگر آپ کے لیے از خود موبائل خریدنے میں دشواری ہو تو پہلے آپ کا دوست آپ کی جانب سے وکیل بن کر آپ کے لیے موبائل خریدے، اس کے بعد وہ موبائل آپ کو یا آپ کے کسی نمائندے کو حوالہ کرے، موبائل پر قبضہ حاصل کرلینے کے بعد آپ مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ وہ موبائل اپنے دوست کو بیچ دیں۔ (المبسوط، المؤلف کتاب البيوع، باب البيوع الفاسدۃ، 13/ 7 ط:دار المعرفۃ – بيروت)