ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر
اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کی پوری زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ صرف عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اپنے رب، اپنے والدین، اساتذہ، اہل خانہ، پڑوسیوں، بزرگوں، چھوٹوں بلکہ ہر انسان کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب اور احترام کا درس دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے سے ادب ختم ہو جائے وہاں محبت، اعتماد اور خیر بھی ختم ہونے لگتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حسنِ اخلاق اور عمدہ گفتگو کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔"اور والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا:"انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرو۔"اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"اور ان کے لیے محبت و رحمت کے ساتھ عاجزی کا بازو جھکا دو۔"
رسول اللہ ﷺاخلاق و ادب کی بلند ترین مثال تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"بے شک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔"
آپ ﷺنے فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ"مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔"اور فرمایا:"وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے۔"ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا:"جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔"
اسلام نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ادب کی تعلیم دی، پھر رسول اللہ ﷺکی تعظیم کا حکم دیا، اس کے بعد والدین، اساتذہ، علماء، بزرگوں، پڑوسیوں، مہمانوں، رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے حقوق بیان کیے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ادب کا عملی نمونہ تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں اس قدر خاموشی اور وقار سے بیٹھتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ کوئی شخص بلا ضرورت آواز بلند نہیں کرتا تھا اور ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ رسول اللہ ﷺکی رضا حاصل ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما علم حاصل کرنے کے لیے صحابۂ کرام ؓکے گھروں کے باہر انتظار کرتے۔ گرمی میں بھی دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے باہر بیٹھے رہتے تاکہ استاد کی راحت میں خلل نہ آئے۔ جب صحابی باہر تشریف لاتے اور فرماتے کہ آپ نے اطلاع کیوں نہ دی تو عرض کرتے: علم کے طالب کو ہی استاد کے پاس آنا چاہیے۔
امام مالک رحمہ اللہ جب حدیث پڑھانے کے لیے مسند حدیث پربیٹھتے تو پہلے غسل کرتے، خوشبو لگاتے، بہترین لباس پہنتے، پھر انتہائی ادب کے ساتھ رسول اللہﷺ کی احادیث بیان کرتے۔ اگر مجلس میں شور ہوتا تو حدیث بیان کرنا پسند نہ کرتے، کیونکہ وہ حدیثِ رسول کے ادب کو ضروری سمجھتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میں اپنے استاد امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے اتنے ادب سے کتاب کے اوراق پلٹتا تھا کہ کہیں آواز نہ پیدا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی علم اور اہل علم کے احترام میں گزاری۔ اسی ادب اور اخلاص کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کو امّت میں وہ مقام عطا فرمایا جو آج تک قائم ہے۔
رسول اللہ ﷺ بچوں سے بھی محبت اور شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، لیکن کبھی آپ نے مجھے ڈانٹا نہیں اور نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا۔
اسلام صرف بڑوں کے احترام کا حکم نہیں دیتا، بلکہ چھوٹوں پر شفقت، غریبوں کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں پر رحم، خواتین کی عزت، پڑوسیوں کے حقوق اور اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ بھی انصاف اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں والدین کی نافرمانی، اساتذہ کی بے توقیری، علماء کی تنقیص، سوشل میڈیا پر گالم گلوچ، سخت لہجہ، مذاق اڑانا اور ایک دوسرے کی بے عزتی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زبان سے کسی مسلمان کی عزت مجروح ہوتی ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
یاد رکھیں، ادب صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔ ادب انسان کے چہرے، گفتگو، لباس، نشست، مجلس، معاملات اور رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس شخص کے پاس ادب ہے، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے دلوں میں عزت عطا فرماتا ہے، اور جس کے پاس علم ہو مگر ادب نہ ہو، اس کا علم بھی بے برکت ہو جاتا ہے۔
آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنے والدین کا احترام کریں گے، اساتذہ کی عزت کریں گے، علماء سے محبت رکھیں گے، بچوں پر شفقت کریں گے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے، اپنی زبان کو نرم رکھیں گے اور ہر مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں گے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے معاشرے میں محبت، اتحاد، سکون اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین، اساتذہ، علماء، بزرگوں اور تمام مسلمانوں کا ادب و احترام کرنے، اپنی زبان اور اخلاق کی حفاظت کرنے اور قرآن و سنّت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)