• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بارش: قدرت کا بے بہا انعام، اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت

ڈاکٹر نعمان نعیم

اللہ تعالیٰ مُسبّب الاسباب ہے، دنیا دارالاسباب ہے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اسباب سے مراد صرف ظاہری اسباب ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اسباب پیدا فرمائے ہیں، ایک کو ظاہری اور دوسرے کو باطنی کہتے ہیں۔ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ظاہری اسباب کو بھی مانتے ہیں اور باطنی اسباب کو بھی۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا ہے، وہ بے شمار ہیں، ان میں کچھ نعمتیں روحانی ہیں اور کچھ مادی ہیں، یہ مادی نعمتیں انسانوں کی اس بستی میں جینے اور رہنے کے لئے ناگزیر ہیں ، ان ضرورتوں میں سب سے اہم ہوا اور ہوا کے بعد پانی ہے۔

قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کی جن نعمتوں کابار بار ذکر کیا ہے، ان میں ایک پانی بھی ہے، بلکہ فرمایا گیا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی ہی سے پیدا کیا ہے ۔(سورۃ الانبیاء : ۳۰) انسان کی زندگی کامدار تو پانی پر ہی ہے ، جتنے بھی ذی روح جانور ہیں ، ان کی زندگی کابقاء بھی پانی ہی پر منحصر ہے، چوںکہ مادۂ تخلیق میں بھی پانی کا ایک جزء موجود ہوتا ہے، اسی لئے قرآن نے انسانی نطفہ کو بھی  ’’ماء دافق ‘‘ یعنی اچھلتے ہوئے پانی سے تعبیر کیا ہے۔ (سورۃالطارق : ۶) اور یہ بھی فرمایا گیا کہ تمام جانداروں کی تخلیق اصل میں پانی ہی سے ہوئی ہے۔(سورۃ النّور : ۴۵)

پانی ظاہری اور نظر آنے والا نظام ہے ، لیکن اصل قوت اللہ کی قوت ہے ، جس کے اشارے اور حکم سے ہی انسان کو کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے اور وہ کسی نعمت سے محروم کیا جاتا ہے، اب یہی دیکھئے کہ سمندر کے پانی کی حرارت اور سورج کی تپش کم و بیش ہمیشہ رہتی ہے، ہوائیں بھی ایک طرف سے دوسری طرف اپنا سفر جاری رکھتی ہیں، بادل بھی فضاء میں جگہ جگہ اپنے گھروندے بنائے رہتا ہے، سوکھی ہوئی زمین اور نیم مردہ درخت ہر سال موسم گرما میں آسمان کی طرف دست سوال پھیلائے رہتے ہیں؛ لیکن کسی سال معتدل بارش ہوتی ہے ، کسی سال ضرورت سے زیادہ اور کسی سال خشک سالی اور قحط کی وجہ سے زمین قطرہ قطرہ کو ترس جاتی ہے ، یہ وہی مشیّت خداوندی کا کرشمہ ہے کہ جب اس کی مشیّت نہیں ہوتی تو ظاہری اسباب کے موجود ہونے کے باوجود مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔

آج ہم شدید گرمی کی جس کیفیت سے دو چار ہیں، اس سلسلے میں ایک طرف تو ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ کہیں ہماری بد اعمالیاں تو اللہ کی اس پکڑ کا باعث نہیں ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قوم زکوٰۃ ادا کرنا چھوڑ دیتی ہے تواس سے بارش روک لی جاتی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں حساب کے ساتھ پوری زکوٰۃ ادا کرنے والوں کا تناسب کم ہے ، اگر تمام صاحب نصاب مسلمان اپنی پوری زکوٰۃ ادا کریں تو اس ملک میں کوئی بھوکا مسلمان نہ رہے۔

حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی گروہ آمادۂ ظلم و جور ہوجاتا ہے تو اس پر آسمانی آزمائشیں مسلط کر دی جاتی ہیں ، جیسا کہ اہل مکہ پر قحط نازل کیا گیا تھا، ظاہر ہے ہمارے ملک میں جس بے دردی کے ساتھ انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، ایسی قوم پر اللہ کے عذاب کے لئے کسی اورحجت کی ضرورت ہے؟ یہ تو ایسے واقعات ہیں کہ اگر آسمان کی آنکھیں خون کے آنسو برسائیں تب بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔

یہ تو اپنے احتساب کا پہلو ہے ، دوسرا پہلو اللہ سے مانگنے اور رب کائنات سے رجوع کرنے کا ہے ، اللہ تعالیٰ نے نماز اور صبر کو اللہ سے مدد مانگنے کا ذریعہ و وسیلہ قرار دیا ہے ۔(سورۃ البقرۃ : ۱۵۳)

رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی عملی تطبیق فرمائی ہے کہ ہر ضرورت کے لئے آپ ﷺ نے نماز رکھی، کوئی خوشی کی بات پیش آئے تو نمازِ شکر، کسی مسلمان کی موت ہو جائے تو استغفار کے لئے نمازِ جنازہ، کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو نماز توبہ، کسی معاملے میں خیر و شر اور نفع و نقصان سمجھ میں نہ آتا ہو، تو نمازِ استخارہ، سورج گرہن ہو تو نمازِ کسوف، چاند گرہن ہو تو نمازِ خسوف، کوئی ضرورت در پیش ہو تو نمازِ حاجت، اسی طرح اگر بارش رُک جائے تو نمازِ استسقاء ۔اللہ کے رسول ﷺبارش طلب کرنے کے لیے نماز استسقاء ادا فرماتے۔ جس کا مکمل طریقہ فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔

بارش مانگنے کی دعا:

اللَّہُمَّ أَغِثْنَا. اللَّہُمَّ أَغِثْنَا. اللَّہُمَّ أَغِثْنَا.( صحیح البخاری)

اے اللہ، ہمیں بارش سے سیراب فرما۔(تین بار)

وسیلہ دے کر بارش مانگنا:

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر بن خطاب ؓنبی کریم ﷺکے چچا عباس بن عبدالمطلب کے وسیلے سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا، اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچا (حضرت عباس ؓ) کا وسیلہ لے کر آئے ہیں، ہمیں سیراب فرما۔ راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے(یعنی بارش ہوجاتی)۔(صحیح بخاری)

معلوم ہوا کہ بارش طلب کرتے وقت جیسے اللہ کے رسولﷺ کا وسیلہ دے کر دعا مانگنا درست ہے، اسی طرح نیک لوگوں کا وسیلہ دے کربھی مانگنا جائز ہے۔

بارش کے وقت کی دعا:

اَللَّہُمَّ صَیِّباً نَافِعاً۔(صحیح بخاری)

ترجمہ: اے اللہ! نفع پہنچانے والی بارش برسا۔

بارش، دعا کی قبولیت کا وقت:

بارش کا برسنا اللہ رب العزت کی رحمت ہے اور نزول رحمت کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بارش کے وقت کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔ سنن ابو دائود میں ایک حدیث مبارک ہے: حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اور بارش کے وقت(کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی )

رحمت والی بارش:

اَللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ(موطا امام مالک)

ترجمہ: اے اللہ!اپنی مخلوق پر رحمت والی بارش نازل فرما اور اپنی رحمت کو ہر سُو پھیلا دے اور بنجر زمین کو قابل کاشت بنا!

نفع بخش بارش:

اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا مَرِیئًا مَرِیعًا نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَیْرَ آجِلٍ(سنن ابو دائود)

ترجمہ:اے اللہ! بارش برسا جو فائدہ مند ہو، خوش گوار ہو، کھیت کھلیان وغیرہ کے لیے نقصان کے بجائے نفع بخش ہو، تاخیر کے بجائے جلد نازل ہونے والی ہو۔

زیادہ بارش کے وقت:

اللَّہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اللَّہُمَّ عَلَی الْآکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ۔(صحیح بخاری)

ترجمہ:اے اللہ، بارش ہمارے لیے فائدہ مند ہو نقصان دہ نہ ہو، اے اللہ اسے پہاڑوں، مٹی کے ٹیلوں، وادیوں اور درختوں پر نازل فرما۔

بارش کے بعد دعا:

مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللہ وَرَحْمَتِہِ.(صحیح بخاری)

ترجمہ:اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہمارے اوپر بارش برسی ‘‘۔اللہ تعالیٰ ہمارے لیے رحمت والی بارشیں نازل فرمائے اور زحمت والی بارشوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین )

اقراء سے مزید