• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، ایئرپورٹ پردو الگ الگ کارروائیاں، زیمبیا اور کانگو جانے والے دو مسافر آف لوڈ

کراچی (مطلوب حسین) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پردو الگ الگ کارروائیوں میں زیمبیا اور کانگو جانے والے دو مسافروں کو مشکوک سفری دستاویزات، جعلی ریکارڈ اور انسانی اسمگلنگ کے شبہ میں آف لوڈ کرکے مزید تفتیش کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق زیمبیا جانے والی مسافرہ روباب قاضی کی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ انہیں 9 جون 2026 کو کمبوڈیا سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جہاں وہ مبینہ طور پر ایک چینی کمپنی میں ملازمت اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کے باعث بلیک لسٹ ہو چکی تھیں۔مسافرہ کے موبائل فون کی فرانزک جانچ میں Telegram اور DingTalk پر موجود متعدد ریکروٹمنٹ گروپس، چینی ایجنٹس سے رابطوں، مشکوک بھرتی کے ریکارڈ، مبینہ آن لائن فراڈ سرگرمیوں سے متعلق چیٹس اور ایک مبینہ جعلی میرج سرٹیفکیٹ کے شواہد سامنے آئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ زیمبیا میں امیگریشن حکام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ موبائل فون سے پاکستانی ایجنٹس اور دیگر مشتبہ افراد سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں۔ابتدائی بیان کے مطابق روباب قاضی کو ایک چینی ایجنٹ نے زیمبیا میں وائس اوور آرٹسٹ کی ملازمت کی پیشکش کی تھی، جس کے لیے انہیں ماہانہ 2 ہزار امریکی ڈالر تنخواہ کا لالچ دیا گیا تھا۔دوسری کارروائی میں ایف آئی اے نے کانگو جانے والے محمد عالم کو اس وقت روک لیا جب ان کے سفری دستاویزات میں موجود فارن سروس ایگریمنٹس (FSA) اور ویزا گرانٹ ریکویسٹ لیٹرز پر پاکستانی سفارت خانہ کنشاسا سے منسوب تصدیقی مہریں ابتدائی جانچ میں جعلی پائی گئیں۔ مزید پوچھ گچھ کے دوران وہ اپنی ملازمت، آجر، ذمہ داریوں اور ملازمت کی بنیادی شرائط کے بارے میں تسلی بخش معلومات فراہم نہ کر سکے، جس سے ان کے سفری مقصد پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔ دونوں مسافروں کو آف لوڈ کرکے مزید قانونی کارروائی، دستاویزات کی تصدیق، انسانی اسمگلنگ کے ممکنہ بین الاقوامی نیٹ ورکس اور ملوث ایجنٹس کی نشاندہی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید