کراچی(مطلوب حسین) ایس ایس پی کرائم اینڈ انوسٹی گیشن جاوید ضمیر الدین فاروقی کے مبینہ طور پر ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کی سرپرستی کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،آئی جی سندھ نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث پولیس اہلکاروں اور ایس ایس پی کو معطل کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کرکے سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کے احکامات جاری کردئے ہیں،تفصیلات کے مطابق سرجانی پولیس نے نادرن بائی پاس زیرو پوائنٹ کے قریب کارروائی کرکے مبینہ طور پرممنوعہ اور مضر صحت گٹکا ماوا اسمگل کرنے والے دو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق گرفتار ملزمان سرقہ شدہ موٹرسائیکل کے ذریعے ممنوعہ گٹکا اور سگریٹ اسمگل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے ممنوعہ 14 پیکٹ گٹکا (آداب اور صفینہ)، 100 پڑیاں گٹکا ماوا اور 04 ڈنڈے سگریٹ برآمد ہوئی۔گرفتار ملزمان میں محمد طارق ولد محمد بوٹا (ہیڈ کانسٹیبل) اور محمد حسنین ولد محمد اسلم (کانسٹیبل) شامل ہیں۔ملزمان کے زیر استعمال موٹرسائیکل بھی تھانہ جمشید کوارٹرز کے علاقے سے سرقہ شدہ نکلی،آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئےملوث اہلکاروں اورسرپرستی کرنے والے افسر کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کردیے ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث ہیڈ کانسٹیبل طارق کھوکھر اور پولیس اہلکار حسنین جبکہ مبینہ سرپرستی میں ملوث ایس ایس پی کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز جاوید ضمیرالدین فاروقی کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کے احکامات جاری کردیئے گئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں کسی بھی سطح پر جرائم پیشہ عناصر کی معاونت، سرپرستی یا اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افسران و اہلکاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔پولیس یونیفارم کو جرائم کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی کسی صورت گنجائش نہیں، ایسے عناصر نہ صرف محکمہ بلکہ پوری فورس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔آئی جی سندھ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرتے ہوئے تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قانون و محکمانہ قواعد کے مطابق سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔