• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برازیلی نجومی نے 2026ء کیلئے 2 پیشگوئیاں درست ثابت ہونے کے بعد تیسری سے خبر دار کر دیا

— تصاویر سوشل میڈیا
— تصاویر سوشل میڈیا

برازیلی نجومی ایتھوس سلوم نے درست پیش گوئیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پیش گوئی کا طریقہ مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتا اور پیش گوئیاں تشریحات ہوتی ہیں، حتمی حقائق نہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 39 سالہ برازیلی نجومی ایتھوس سلوم، جنہیں عام طور پر موجودہ دور کا نوسٹراڈیمس کہا جاتا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2026ء کے لیے میری 2 بڑی پیش گوئیاں پہلے ہی درست ثابت ہو چکی ہیں۔

انہوں نے اب دنیا کو ایک تیسرے اور زیادہ تشویش ناک واقعے کے لیے تیار رہنے کا مشورہ بھی دے دیا۔

ایتھوس سلوم اس سے قبل مبینہ طور پر کووڈ 19 اور ملکہ الزبتھ دوم کی وفات جیسے واقعات کی درست پیش گوئی کر کے توجہ حاصل کر چکے ہیں، انہوں نے حال ہی میں 2026ء کے لیے اپنی پیش گوئیوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میری پہلی درست ثابت ہونے والی پیش گوئی مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے بڑھنے سے متعلق تھی، بالخصوص اسرائیل اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی۔

ایتھوس سلوم کے مطابق دوسری پیش گوئی 2026ء کے فٹبال ورلڈ کپ سے متعلق تھی، جو بظاہر پوری ہو گئی، کیونکہ میں نے اسپین کے عالمی چیمپئن بننے کی پیش گوئی کی تھی۔

اگلی پیش گوئی کیا ہے؟

ان دو واقعات کے درست ثابت ہونے کے بعد اب ایتھوس سلوم نے اپنی تیسری پیش گوئی کے حوالے سے خبردار کیا ہے، جس میں آرکٹک سرکل کے علاقے میں روس اور نیٹو کے درمیان بڑے تصادم کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ایتھوس سلوم نے خبردار کیا کہ تیزی سے پگھلتی ہوئی قطبی برف قیمتی توانائی کے ذخائر اور اہم بحری راستوں کو سامنے لا رہی ہے، جس کے باعث منجمد شمالی خطہ ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی میدان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔


ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتی صورتِ حال کو براہِ راست عالمی تنازع میں تبدیل کر سکتی ہے۔

ایتھوس سلوم نے کہا کہ حالیہ تازہ ترین اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس آرکٹک میں اہم تزویراتی علاقوں کی جانب میزائل نظام منتقل کر رہا ہے، جس سے 2026ء میں برف پگھلنے کے دوران، ایک ایسے وقت میں جب نئے بحری راستے اور توانائی کے ذخائر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، نیٹو کے ساتھ براہِ راست تصادم کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

نجومی نے افریقا کے ساحلی خطے میں ممکنہ تنازع سے بھی خبردار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ نائجر کے شمالی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث یہ خطہ مغربی افواج کے انخلاء کے بعد اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے ممالک کے درمیان بالواسطہ کشمکش کا مرکز بن سکتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید