• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کی موت کا معمہ حل نہ ہوسکا، والد کا میڈیکل رپورٹ پر تحفظات کا اظہار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)نوجوان میر رضا علی خان کی موت کامعمہ حل نہیں ہوسکا،نوجوان کے والد نے میڈیکل رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ حسین رضا نے دعویٰ کیا کہ میرے بیٹے کو قتل کیا گیا جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بیٹے کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا، اسے پیچھے سے گولی ماری گئی ہے۔حسین رضا نے سوال کیا کہ میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے۔میڈیکل رپورٹ میں تشدد کا کیوں نہیں بتایا گیا؟۔میر رضا علی کے والد کا کہنا ہے کہ 28 جولائی کو بیٹا لاپتہ ہوا، 29 جولائی کو لاش ملی تو 24 گھنٹے تک وہ کہاں تھا؟ ۔28 جولائی کو گھر سے جاتے ہوئے میر رضا کی بہن سے بات ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا ہے کہ میر رضا خوش تھا اور گاڑی میں گانے لگائے۔ انہوں نے اعلیٰ افسران سے اپیل کی کہ اس کیس کی تحقیقات کی جائیں۔تفتیشی حکام کے مطابق 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو میسج کیا تھا اور اس سے 3 کروڑ روپے مانگے تھے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال نہیں آئی، ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے فیملی مطمئن نہیں ہے۔ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں وجہ موت گولی لگنا بتائی گئی ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق فیملی کا دعویٰ ہے کہ میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات ہیں۔
اہم خبریں سے مزید