کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر کے گریڈ 20 کے افسر کی جگہ گریڈ 19 کے جنرل کیڈر کے ڈاکٹر کو سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی نمبر 5کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات کردیا، جس سے ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر اور اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے قائم سرچ کمیٹی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ چیسٹ ڈیزیزز انسٹیٹیوٹ کی گریڈ 20 ڈائریکٹر آسامی بھی گریڈ 19 ڈاکٹر کے سپرد ، ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر ڈاکٹر تعیناتیوں کےمنتظر ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت کا موقف لینے کے لیے وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی اور ترجمان شکیل ڈوگر سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔محکمہ صحت کے 25 اگست کے اعلامیے کے مطابق وزیر صحت کی منظوری سے ڈاکٹر غلام فاروق چانڈیو، سینئر میڈیکل آفیسر (بی ایس-19)، کو ایم ایس سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق ایم ایس ڈاکٹر انیس الرحمٰن صدیقی کو محکمہ صحت رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر انیس الرحمٰن صدیقی ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر کے گریڈ 20 کے افسر ہیں۔ ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر صحت کے شعبے میں انتظامی ذمہ داریاں ایسے ڈاکٹرز کو سونپنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جو ایم بی بی ایس کے ساتھ ماسٹر آف پبلک ہیلتھ، ہیلتھ مینجمنٹ، ہاسپٹل مینجمنٹ، ایپیڈیمیالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں اعلیٰ پیشہ ورانہ ڈگریاں رکھتے ہوں۔ محکمہ صحت کے حلقوں کے مطابق اس کیڈر کے متعدد افسران پہلے ہی انتظامی عہدوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں، ایسے میں گریڈ 20 کے کیڈر افسر کو ہٹا کر گریڈ 19 کے جنرل کیڈر ڈاکٹر کو ایم ایس مقرر کرنا اچھی روایت نہیں ہے۔ محکمہ صحت نے 4 مئی کو اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے سرچ کمیٹی تشکیل دی تھی جبکہ 21 مئی کے سرکلر کے ذریعے جنرل کیڈر اور ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر کے گریڈ 19 اور 20 کے ڈاکٹروں سے خالی انتظامی عہدوں کے لیے سی ویطلب کرکے سرچ کمیٹی کے سامنے انٹرویو کی ہدایت کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر غلام فاروق چانڈیو ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر سے تعلق نہیں رکھتے اور انہیں ایم ایس کورنگی کے لیے سرچ کمیٹی نے انٹرویو بھی نہیں کیا، تاہم انہیں وزیر صحت کی منظوری سے تعینات کردیا گیا۔ دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے آج ہی جاری کیے گئے ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 19 کے جنرل کیڈر ڈاکٹر محمد علی قائم خانی، جو قاسم آباد تعلقہ اسپتال حیدرآباد میں چیف میڈیکل آفیسر تعینات تھے، کو انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیزز جامشورو کا ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیزز کے ڈائریکٹر کی منظور شدہ آسامی گریڈ 20 کی ہے، جس پر گریڈ 19 کے افسر کی تعیناتی بھی انتظامی عہدوں پر گریڈ اور کیڈر کے اصولوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔ محکمہ صحت کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں سرچ کمیٹی کی سفارشات اور ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر کے تربیت یافتہ افسران کے بجائے کسی اور طریقہ کار سے ہونی ہیں تو پھر سرچ کمیٹی اور ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر تشکیل دینے کا مقصد واضح کیا جانا چاہیے۔ ایک طرف ہیلتھ مینیجمنٹ کیڈر کے ڈاکٹر تعیناتیوں کے منتظر ہیں اور دوسری جانب ان کی جگہ یا اہم انتظامی آسامیوں پر جنرل کیڈر کے افسران کی تعیناتی سے کیڈر کے بنیادی مقصد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔