• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میّت کو غسل دینے کے بعد اس کے جسم سے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جاسکتے ہیں

تفہیم المسائل

سوال: ہم گزشتہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اَموات کی وجوہات و اَسباب کی تشخیص کے لیے تحقیق کررہے ہیں، تاکہ کوئی علاج دریافت کرسکیں۔ اس طریقۂ کار میں فوت شدہ بچوں کے جسم کے مختلف حصوں سے نمونے لیے جاتے ہیں، کچھ لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ غسل اور کفن کے بعد یہ نمونے لینا جائز نہیں ہے یا نمونے لینے کے بعد دوبارہ غسل دینا چاہیے، گویا اس سے غسل باقی نہیں رہے گا، کیا یہ درست ہے ؟(ڈاکٹر عبدالمومن قاضی ، کراچی)

جواب: آپ کے سوال کا براہِ راست جواب یہ ہے کہ میّت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد خواہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی جاچکی ہو، ضرورت کے تحت اگر اُس کے جسم سے خون، پانی یا جسمانی بافتوں (Tissues)کے نمونے لیے جائیں تو غسل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، جسم کے کسی حصے پر خون یا آلودگی لگ جائے تو صرف اُسی حصے کو پانی سے دھو کر صاف کردیا جائے، بعض اوقات عدالتی حکم کے تحت سببِ موت کے تعین کے لیے دفنانے کے بعد بھی پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کی جاتی ہے یا جسم سے اجزا لیے جاتے ہیں۔

ضرورت کے تحت ان اُمور کے جواز کا حکم موجود ہے، فقہی جزئیات میں اس مسئلے کی نظیر یہ ہے : علّامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابوبکر فرغانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ پس اگر(غسل دینے کے بعد میّت کے بدن سے ) کچھ نکل جائے تو اسے دھو دے، غسل یا وضو دوبارہ نہیں کیا جائے گا ،(ہدایہ ،جلد1، ص:89)‘‘۔

علّامہ کمال الدین ابن ہمام ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’میّت کو سنّت کے مطابق غسل دینا ایک ایسا حکم ہے، جس کا وجوب شرعی نصّ سے ثابت ہے اور یہ وجوب موت کی وجہ سے صرف ایک ہی بار ثابت ہوتا ہے۔ موت ہی نجاست اور حدث کا سبب ہے اور وہ ایک مرتبہ ہی واقع ہوتی ہے، اس لیے غسل کے بعد میّت سے کوئی شے نکل آئے، خواہ غسل سے پہلے نکلے یا بعد میں (اس سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا)، لہٰذا ایسی صورت میں وضو اور غسل کا اعادہ نہیں کیاجائے گا، (فتح القدیر ،جلد 2، ص:110)‘‘۔

پس غسلِ میّت کے بعد جسم سے کسی شے کا خروج یا اِخراج ہو تو اس سے غسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور دوبارہ غسل دینے کی حاجت نہیں ہے، یہ نمونے لینے کے بعد اگر اس جگہ سے خون یا کسی مادّہ کا اخراج ہوتا ہے، تو آپ وہاں روئی وغیرہ رکھ کر پٹی باندھ دیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ میّت پر فقہی احکام مرتب نہیں ہوتے، کیونکہ وہ مُکلّف ہی نہیں ہے، غسلِ میّت اکرامِ میّت کے لیے ہوتا ہے اور وہ ایک ہی بار کافی ہے۔( واللہ اعلم بالصّواب)

اقراء سے مزید