تفہیم المسائل
سوال: ایک شخص نے چار سال قبل اپنے اہل وعیال کے ساتھ اسلام قبول کیا اور اب بحیثیت مسلمان زندگی گزار رہے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اپنی بچیوں کے رشتے کرتے وقت اپنے سابق مذہبی پس منظر کو بیان کرنا لازم ہے، اگر ذکر نہ کریں تو کیا یہ دھوکے کے زمرے میں آئے گا؟ (ایک سائل، برطانیہ)
جواب: مذکورہ خاندان کا دائرۂ اسلام میں داخل ہونا یقیناً اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور رحمت ہے، جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ رشتہ طے کرتے وقت اپنا سابقہ مذہبی پس منظر بتانا لازم نہیں اور اسے چھپانا شرعاً دھوکہ یا تدلیس کے زمرے میں نہیں آتا، البتہ اگر کوئی پوچھے تو سچ بتادیں، کیونکہ کفر وارتداد کو ترک کرکے اسلام قبول کرنا باعثِ عیب نہیں، بلکہ موجبِ تحسین وستائش ہے۔
حدیث پاک میں ہے: حضرت عمر وبن عاص ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کی : ’’ (یارسول اللہ ﷺ!) اپنا ہاتھ بڑھایئے، تاکہ میں( آپ کے دستِ مبارک پر) آپﷺ کی بیعت کروں، رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمرَو !کیا بات ہے، میں نے عرض کی: میں کچھ شرط رکھنا چاہتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دل چاہے، شرط رکھو، میں نے عرض کیا: میری شرط یہ ہے کہ میرے سابقہ گناہ معاف ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمرَو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، ہجرت تمام پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور حج تمام پچھلے گناہوں کو مٹادیتاہے، (صحیح مسلم:192)‘‘۔
لہٰذا کوئی کفر ترک کرکے اسلام قبول کرلے، تو اسلام کی برکت سے اس کے ماضی کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد زمانۂ کفر پر ملامت کرنابھی جائز نہیں ہے۔
مذکورہ خاندان اب بحیثیت مسلمان زندگی گزار رہا ہے، لہٰذا خود کو صرف مسلمان ظاہر کرناہی کافی ہے۔ اسلام کا بنیادی اصول ہے ، اسلام گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، جب کفریہ عقائد سے سچے دل سے توبہ کر لی اور عقیدہ پختہ مسلمان والا ہے، تو اللہ کے ہاں مکمل پاک اور عام مسلمانوں کی طرح ہیں۔ کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے پرانے کفر یا گناہ کو توبہ کے بعد لوگوں پر ظاہر کرنا لازم نہیں ہے۔
عموماً بچوں کے رشتے کرتے وقت دونوں خاندان ایک دوسرے کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کرلیا کرتے ہیں، بنیادی معلومات سے مطمئن ہونے کے بعد رشتے آگے بڑھائے جاتے ہیں، جس میں خاندانی نسب بھی معلوم کرلیا جاتا ہے، ماضی کے مذہبی حالات، خاندانی پس منظر کے بارے میں ازخود بتانا ضروری نہیں ہے۔
اگر کوئی نہ پوچھے اور آپ ذکر نہ کریں تو یہ کسی بھی صورت میں دھوکہ یا فراڈ نہیں کہلائے گا۔ البتہ فقہائے کرام نے ایک فقہی مسئلہ بیان فرمایا ہے: علّامہ فخرالدین حسن بن منصور اوزجندیؒ لکھتے ہیں : ترجمہ:’’ جس شخص نے خود اسلام قبول کرلیا، لیکن اس کا باپ مسلمان نہ تھا، تو وہ اس شخص کا کفو نہیں جس کا ایک باپ (یعنی ایک پشت) مسلمان ہو اور جس کی ایک پشت مسلمان ہو، وہ اس کا کفو نہیں، جس کی دو پشتیں مسلمان ہوں اور جس کی دو پشتیں مسلمان ہوں، وہ اس کا کفو نہیں ہوگا، جس کی دس پشتیں مسلمان ہوں ،( فتاویٰ قاضی خان، جلد2، ص:48)‘‘۔
تاہم ولی کی رضامندی سے کفو نہ ہونے کی صورت میں بھی نکاح ہوجاتا ہے، البتہ جہاں ولی کی مرضی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیاگیا ہو تو ولی کو عدالت کے ذریعے فسخِ نکاح کا حق حاصل رہتا ہے ۔( واللہ اعلم بالصّواب )