• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خنزیر کا نام لینے سے زبان ناپاک ہونے یا برے اثرات پیدا ہونے کا نظریہ

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ سُوَر(خنزیر) کا نام لینے سے برائیاں ہوتی ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام لینے سے زبان ناپاک ہوجاتی ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟بعض لوگ ویسے ہی یہ لفظ زبان پر لانے سے اجتناب کرتے ہیں، بعض وہ آیات تک پڑھنے سے بچتے ہیں جن میں خنزیر کا ذکر آیا ہے۔ اس بارے میں آپ حضرات کیا فرماتے ہیں؟

جواب: سوال میں مذکورہ باتوں کا تعلق بے بنیاد اَوہام و خیالات سے ہے، بے شک خنزیر سراپا نجس ہے، قرآنِ مجید نے اسے نجس و ناپاک جانور قرار دیا ہے، لیکن اس کی نجاست اس کی ذات میں ہے، اس کا نام لینے سے زبان ناپاک نہیں ہوتی، نہ ہی اس سے برائیاں پیدا ہوتی ہیں، لہٰذا بات چیت میں جہاں ضرورت ہو خنزیر کا نام لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، ہاں اس کے نجس العین اور حرام ہونے کی بناء پر دل میں اس سے نفرت ہو اور بے وجہ اس کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ درست ہے۔

جہاں تک قرآنِ کریم کی وہ آیات ہیں جن میں خنزیر کا ذکر ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآنِ مجید کی ہر آیت قرآنِ مجید کا جز ہونے کی حیثیت سے فضیلت اور مرتبے میں برابر اور اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے، لہٰذا تسلسل سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت یا جس سورت یا آیت میں خنزیر کا ذکر ہے، اسے تلاوت کرتے وقت خنزیر کا لفظ زبان پر لانے سے اجتناب کرنا نیکی نہیں ہے، بلکہ دین میں غلّو ہے، جس سے ہمیں روکا گیا ہے۔

اقراء سے مزید