• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میاں بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہوں تو عورت کے ذمے گھر کے کاموں کی ذمہ داری کی نوعیت

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: اگر میاں بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہوں، تو کیا اس صورت میں بھی گھر کے تمام کام عورت ہی کی ذمہ داری ہوں گے؟ یعنی عورت شادی سے پہلے ہی ملازمت پیشہ ہو، اور نکاح کے بعد شوہر کی اجازت سے اپنی ملازمت جاری رکھے، جب کہ شوہر گھر کے مالی اخراجات میں اپنی شرعی ذمہ داری پوری نہ کرے اور ان میں حصہ نہ ڈالے، تو اس صورت میں شوہر اور بیوی کے حقوق و ذمہ داریوں کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

مزید یہ کہ رشتہ طے کرتے وقت شوہر نے بیوی کو بتایا کہ شادی کے بعد گھر کے مالی اخراجات کی ذمہ داری وہ اکیلا نہیں اٹھائے گا، بلکہ دونوں میاں بیوی مل کر یہ ذمہ داری ادا کریں گے، نکاح کے بعد بیوی نوکری کے ساتھ ساتھ تمام خانگی ذمہ داریاں اور بچوں کی پرورش بھی احسن طریقے سے انجام دیتی رہی۔

اب شادی کو بائیس سال گزر چکے ہیں، اور بیوی متعدد جان لیوا امراض میں مبتلا ہے، کئی آپریشن بھی کرا چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ بعض گھریلو کام انجام دینے سے قاصر ہے، اس کے باوجود وہ ملازمت کر رہی ہے اور اس کی تقریباً پوری آمدنی گھر کے اخراجات میں صرف ہو جاتی ہے، دوسری طرف شوہر اپنی ملازمت کی مدت پوری کر چکا ہے، استطاعت رکھنے کے باوجود مزید ملازمت نہیں کرتا، جب کہ کھانا پکانے کی ذمہ داری بھی زیادہ تر بیوی ہی انجام دے رہی ہے، موجودہ صورتِ حال میں شوہر بیوی سے ناخوش رہتا ہے، اس کا خرچ اٹھانے سے انکار کرتا ہے، دونوں کے تعلقات شدید کشیدہ ہیں اور گھر میں اکثر لڑائی جھگڑے کا ماحول رہتا ہے، مزید یہ کہ شوہر کے بہن بھائی بھابھی کے کچن کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بچوں کے سامنے بھی کرتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: شریعتِ مطہرہ نے مرد و عورت پر ان کی حیثیت کے مطابق ذمہ داریاں مقرر کی ہیں، چناں چہ مرد پر گھر سے باہر کے معاملات اور معاشی ذمہ داری عائد کی ہے، جب کہ عورت کو گھر کی مالکہ بنا کر گھریلو امور اس کے سپرد کیے ہیں، اس تقسیم کار کو مد نظر رکھتے ہوئے عورت کے لیے بلا ضرورت گھر سے باہر کی ذمہ داریاں سنبھالنا اور ملازمت و معاش اختیار کرنا شریعت میں پسندیدہ نہیں ہے، بلکہ عورت کا نان ونفقہ مرد پر واجب کیا گیا ہے کہ وہ بقدر کفایت کھانے پینے، کپڑے، اور مکان کا انتظام کرے، البتہ ضرورت پیش آجائے تو پردے کے احکام اور دیگر شرعی حدود کی مکمل رعایت کے ساتھ عورت کو گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نیز گھر کے کام مثلاً کھانا پکانا، گھر کی صفائی وغیرہ عورت کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور دیانت کے پہلو سے عورت پر لازم ہے، لیکن فقہی اعتبار سے عورت پر یہ امور انجام دینا فرض نہیں ہیں، لہٰذا کسی واقعی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کے بغیر عورت کو ان کاموں سے انکار نہیں کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی عذر یا بیماری وغیرہ ہو تو شوہر کو چاہیے کہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق گھر کے کاموں کے لیے خادمہ یا نوکرانی کا انتظام کرے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ بیوی کے نان نفقہ کو اپنی شرعی ذمہ داری سمجھے اور اسے ادا کرے، بیوی کے ذمہ کمانا لازم نہیں، اگرچہ شادی کے موقع پر یہ طے ہوچکا ہو کہ بیوی بھی کمائے گی، تاہم اس کے باوجود اگر وہ کماتی ہے تو یہ اس کی جانب سے تبرع اور احسان ہوگا، نیز اگر آپ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہے ہیں تو شوہر کی بہنوں کو چاہیے کہ وہ بھی امور خانہ داری میں بھابھی کا ہاتھ بٹائیں اور گھر کے امور آپس میں تقسیم کرلیں، تاکہ کسی ایک شخص پو بوجھ نہ ہو۔ اگر واقعتاً مذکورہ خاتون متعدد جان لیوا امراض میں مبتلا ہے اور ان امراض کی وجہ سے گھر کے کام کاج انجام دینے سے قاصر ہے تو ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق کسی خادمہ یا نوکرانی کا انتظام کرے۔

تاہم میاں بیوی کو چاہیے کہ باہمی افہام و تفہیم، حسنِ معاشرت اور ایک دوسرے کے حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل تلاش کریں، اور اپنی ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں، بلاوجہ لڑائی جھگڑے اور باہمی کشیدگی سے اجتناب کریں۔

میاں بیوی کا رشتہ ضابطوں کی پیروی سے زیادہ باہمی احترام و اعتماد اور تعاون سے ہی خوش گوار رہتا ہے۔ (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الطلاق ، الباب السابع، الفصل الرابع فی نفقۃ الأولاد، 1/ 562۔563، ط: دارالفکر و فتح الباری، کتاب النکاح، باب الغيرۃ، 9/ 324، ط: المکتبۃ السلفيۃ، رد المحتار، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، 3/ 579، ط: سعيد)

اقراء سے مزید