پروفیسر خالد اقبال جیلانی
ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین اس ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہنے کی جو تجاویز اور تدابیر آج انسانوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اسلام نے وہ سب کچھ اب سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسانیت کی امانت کے طور پر مسلمانوں کے حوالے کر دیئے تھے، لیکن مسلمان اپنے محدود تصور دین کے سبب سے ناتو خود ان ماحول دوست فطری اصولوں سے کوئی استفادہ کرسکے اور ناہی انسانیت کو ان اصولوں سے آشنائی عطا کر سکے۔ قرآن و حدیث اور تعلیمات اسلامی میں پانی کو اسلام کے عباداتی نظام اور انسانی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ پانی زندگی کی اساس اور اصل قوت ہے۔
اس کے بغیر زمین پر نہ توانسانی حیات باقی رہ سکتی ہے اور نہ ہی جنگلی حیات (حیوانات و نباتات) کا کوئی تصور ممکن ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات میں پانی وہ نعمت خداوندی ہے جس پر سب کا حق ہے اور ساری ہی انسانیت معاشرتی طور پراس کی حفاظت کی ذمہ دار بھی مقرر کی گئی ہے۔ مسند حارثی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : پانی نباتات اور آگ میں تمام انسان یکساں حصہ دار ہیں‘‘۔
اسی لیے آپ ﷺ نے وضو جیسے اہم عبادتی عمل میں بھی پانی کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کو اسراف یا کفر ان نعمت قرار دیا۔ غور کیجئے کہ جب وضو جیسے اہم اور ضروری عبادتی عمل میں یہ احکاما ت ہیں تو دوسرے کاموں کی انجام دہی میں پانی کے محتاط استعمال کی کتنی زیادہ ضرورت ہوگی۔ اسی طرح آپ ﷺ نے پانی کو پاک و صاف رکھنے اور گندگی و آلودگی سے بچانے کی بھی بہت تاکید فرمائی ۔
ہم جانتے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کا ایک اہم سدِباب درخت شجرکاری اور جنگلات ہیں۔ رسول ﷺ نے درخت لگانے کی اور درختوں کی حفاظت کرنے کی بھی ہدایت و تاکید فرمائی ہے اور درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے اور اس سے کوئی پرندہ، چوپایا، انسان کھائے تو وہ اس کے لگانے والے کے حق میں صدقہ شمار ہوگا۔ (صحیح بخاری) اسلامی احکامات میں بنجر و بیکار زمین میں کاشت کاری کرنے، جنگلات لگانے کی بھی ترغیب و تاکید ہے۔ درختوں جنگلوں کی حفاظت کے ساتھ درختوں کو کانٹے کے عمل کو سخت ناپسندیدہ فرمایا۔ جنگوں میں درختوں کو کاٹنے اور فصلوں کو اجاڑنے سے سختی سے منع فرمایا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم ماحول کے تحفظ، آلودگی سے بچنے اور بہترین صاف ستھرے ماحول میں زندہ رہنے اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو بہترین حیات بخش ماحول فراہم کرنے کے لئے درخت لگائیں۔ہم آج درخت لگائیں گے تو اس کے سایہ اور پھل سے ہماری نسلیں مستفید و مستفیض ہوں گی۔
جانور خصوصاً چوپائے اور پرندے ہمارے لئے غذا کی فراہمی کا بھی ایک اہم ترین ذریعہ ہیں اور انسانی خوراک کا تقریباً ساٹھ فیصد سے زیادہ حصہ ان چوپایوں اور پرندوں ہی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی زمین کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے اور حیات افزا ماحول کی فراہمی کے لئے جنگلی حیات کا تحفظ اور بقا بھی یقینی بنانا ہوگی۔
شور شرابا بھی ماحولیات کی آلودگی کا ایک اہم سبب ہے ، شور و غوغا انسانوں کی صحت کے لئے بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس وقت زمین پر ہر بار ہواں انسان شور شرابے سے متاثر اور اپنی قوتِ سماعت سے محروم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آواز پیدا کرنے والی مختلف النوع مشینوں ، کاروں گاڑیوں کے شور سے ہمارے گھر ، گلی محلے، سڑکیں، شاہراہیں، بازار، گاؤں دیہات شہر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور انسانوں میں بلڈ پریشر ،برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک اور شوگر جیسی خطرناک، مہلک اور لا علاج بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
قرآن کریم میں صوتی آلودگی، بلند آہنگی، کرخت لہجے اور تلخ گفتگو سے منع کیا گیا ہے، بات کرتے ہوئے آواز کو پست رکھنے کا کہا گیا اور سب سے زیادہ شور کرنے والے جانور گدھے کی آواز کو ناپسند کیا گیا۔ (سورۂ لقمان) جب دین فطرت کرخت لہجے میں بات چیت یا گفتگو کرنے سے منع کرتا ہے تو پھر شور شرابے کو کیسے روا رکھا جاسکتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو عبادت بھی آہستہ اور دھیمی آواز سے کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رسول اللہ ْﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بازاروں میں شور و ہنگامے کو نا پسند کرتاہے۔
اسلام جہاں انسان کے جسم ، کپڑے، مکان کی طہارت اور صفائی چاہتا ہے۔ وہاں اسلام انسانی ماحول گلی محلے، سڑکوں شہروں میں صفائی کی بھی ہدایت کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’دو قابلِ لعنت چیزوں بول و براز سے بچو اور اس شخص سے بھی دور رہو جو لوگوں کے راستے یا سائے کی جگہ پیشاب کرے، ‘‘ معلوم ہواکہ کھلے عام رفع حاجت کرنا، سڑکوں پارکوں اور عام گزر گاہوں پر پان اور گٹکے کھا کرتھوکنا، پیشاب کرنا، گھروں کا گندا پانی گلیوں میں بہانا، گھروں کی گندگی اور کوڑا کرکٹ عام جگہوں پر ڈالنا، تعمیراتی کامو ں کے دوران گرد و غبار روکنے کی تدابیر اختیار نہ کرنا، یہ سب دین فطرت کی فطری تعلیمات کے خلاف ہے۔
اس سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کی تعلیم اور کسی دین و ملت میں ہو ہی نہیں سکتی کہ بلغم کوتھوکنے کے بعد پاؤں سے لازمی اس پر کچھ مٹی ڈال دی جائے، تا کہ اس بلغم کے جراثیم ماحول کو بیماری زدہ اور زہر یلا نا بنائیں۔وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان آگے آئیں اور اسلام کا فطری نظام رحمت و عافیت عملاً انسانیت کے سامنے پیش کریں۔