• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسیہ عمران

’’اب تک کیا کر رہی تھیں؟‘‘زندگی کی چار دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ سوال پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ مشورہ مانگا تو بہت قیمتی مشورے ملے۔ کسی نے قرآن حفظ کا مشورہ دیا توکسی نے ترجمے و تجوید سے قرآن پڑھنے کا کہا، کسی نے درود شریف پڑھنے کا۔ کسی کا کہنا تھا اللہ سے تعلق جوڑیں تو کسی نے صحت پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

ایک سہیلی نے کہا کہ بچوں کی تربیت پر توجہ دیں۔ ایک ساتھی نے احساس دلایایہ زندگی کا قیمتی ترین عرصہ ہے، جس میں آپ نے قدم رکھا ہے۔ لہٰذا اس کی باقاعدہ پلاننگ کریں وہ سب جو معاشرے نے آپ کودیامعاشرے کو لوٹائیں۔ وہ احساسات، خیالات، تجربات اور وہ سب جو کسی کو فائد ہ پہنچا سکے۔

ایک صاحبہ کی بات دہلا دینے والی تھی۔ کہنے لگیں چالیس سال بعد تو زندگی انھی کاموں کے گرد گھومتی ہے جو آپ نے عمر بھر کیے ہوتے ہیں۔ کچھ بھی نیا نہیں ہوتا۔ کسی نے محاسبہ کا کہا اور یہ کہ وہ سب کر لیں جو اب تک ذمہ داریوں کے بوجھ تلے نہیں کر سکیں۔ میری معلمہ نے کہا علم، تقوی، خداخوفی پھیلا نے کی عمر ہے۔

آپ کے بچے ذمہ داریوں پر اور کچھ عرصے بعد ایک نئی نسل آپ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ باغبانی، مطالعہ، کچھ لکھنا، پینٹنگ کرنا ۔ پرانی سہیلیوں کو ڈھونڈیں، رشتہ داروں کو وزٹ کریں، ضرورت مندوں یتیموں کی کفالت کریں ، سوشل ورک کریں۔خیر اور بھلائیاں بانٹیں۔اللہ کے دیے پر شکر گزار ہوں۔ کسی کو علم دیں۔اچھی سوچ دیں۔ دوسروں کی اچھی یادوں میں جگہ بنائیں ۔مزاج کو خوشگوار بنائیں۔ تحریر یں لکھتی ،رہنمائی کرتی رہیں۔

ایک آرٹیکل نظر سے گزرا کسی نے کیا خوب لکھا تھا۔’’علم ،عمر اور مشاہدہ جیسے جیسے بڑھتا ہے، انسان کی سوچ میں تبدیلی آتی رہتی ہے، پہلے دو اَدوار میں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ تیسرے اور چوتھے دور میں خاندان، پھر برادری اور پھر مسلک اور فرقے کے بارے سوچتا ہے۔ لیکن چالیس سال کی عمر میں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ عقل مکمل ہوجاتی ہے، انسان اپنے سے باہر نکلتا ہے اور پوری قوم، ساری امت اور پھرتمام انسانیت کے بارے سوچنا شروع کردیتا ہے۔

سوچ کا یہ تغیر جتنا جلدی مکمل ہواتنا ہی بہتر ہے۔ آپ زندگی کے جس دور سے بھی گزر رہے ہیں اس دور اور اس سے پہلے کے اَدوار کو دیکھیں، یہ حقیقت آپ کو صاف دکھائی دے گی، پھر آپ اپنے معاشرے کو دیکھیں، لوگوں کو دیکھیں، تنظیموں اور جماعتوں کو دیکھیں، ان کے اندر بھی آپ کو یہی حقیقت نظر آئے گی‘‘۔

سب مشوروں پر غور کرنے سے احساس ہوا کہ یہ سارے کام تو زندگی کے ہر مرحلے میں ہی اہم ہیں۔ میں نے مشورہ مانگا تھا جواباً سوال بھی آنے لگے۔ ایک سوال تھا۔ آپ بتائیں چالیس سالہ زندگی گزار کر محسوسات کیا ہیں، کیا حاصل ہے؟ سوچا تو احساسات کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ پہلا احساس تھا وقت بہت جلدی گزر گیا۔

پتہ ہی نہیں چلا۔ گاڑی جیسے مسلسل تیزی سے دوڑتی چلی گئی ہو۔ کئی آزمائشوں کے ساتھ خوشنما مناظر کی بھی کمی نہیں رہی۔ لیکن ا ب یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ خوشیوں کو بھی توجہ دینی پڑتی ہے، استقبال کرنا پڑتا ہے، منانا پڑتا ہے، ورنہ روٹھ جاتی ہیں۔

کوئی لمحہ بھی قید نہیں کیا جاسکا، پرندوں کی طرح سب اُڑکے غائب ہو گئے۔زندگی میں جو چاہا پالیا۔ لیکن ہر کامیابی نے اپنی پوری قیمت وصول کی ۔رشتے ہوں یا ترجیحات، کچھ بھی تھالی میں سجا نہیں ملا۔ اللہ کا کرم ہمیشہ چھایا رہا۔بہترین والدین، کلیجے کی ٹھنڈک اولاد، اردگرد اچھے لوگ، اچھی سہیلیاں، انمول رشتے، خوبصورت مواقع ،تھپکی دیتے ہاتھ، نئے راستے دکھاتے ساتھی، بہترین اساتذہ ہر مقام پر عطا ہوئے۔اللہ سے ان سب مہربانوں کے لئے دل سے دعائیں ہیں کہ جن کی توجہ، محبت اور ساتھ نے ہمیشہ امیر کیے رکھا۔

یہ خالص رب کا کرم تھا، کہاں ہر ایک کو یہ سب کچھ میسر آیا کرتا ہے۔ اتنے عرصے میں زندگی نے کئی رنگ بدلے ، کتنے ہی ساتھی، پیارے ابو جی، شرارتی سے بھائی سب ہی اپنے اپنے اسٹیشن پر اپنی راہ چل دئیے۔ ترجیحات بدلیں تو سمجھ آیا کہ کہاں خسارہ کا سودا تھا۔زندگی کے درمیانی عرصے میں جلد بازی تھی۔

سوچتی تھی فلاں تو کبھی نہ بدلے گا، اس سے خیر کبھی نہیں مل سکتی، آج وہی سراپا خیر بنے ہیں۔ جن کے متعلق برائی کا شائبہ بھی نہ تھا آج وہ شیطان کے شکنجے میں کسے ہیں۔ گویا سب کچھ بدلا ہے۔ کچھ بھی مستقل نہیں رہا۔ہر لمحہ نئی دنیا، بدلاؤ کا پیامبر ہے کہ اب کچھ بھی مستقل معلوم نہیں ہوتا۔ نہ لوگ ،نہ مزاج، نہ ہی پیمانے۔

بس رب کی ذات لامحدود ہے۔ اس کے پیمانے بدلنے والے نہیں ہیں۔ دعا ؤں کا بڑا حصہ قبول ہوا ہے۔ دعا کی تھی اللہ دین کی خدمت لے۔ اس نے ناقابل یقین جگہوں سے راستے بنائے۔ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، توفیق دی۔ گزشتہ رمضان المبارک ایک مستقل دعا کی تھی اللہ قلم کو چلا دے بات دل سے نکلے، دلوں پر اثر کرے۔ جو لکھتی ہوں دل کی آواز ہوتی ہے۔ یقیناً اثر بھی کرتی ہوگی۔

اس وقت زندگی کاحاصل رشتے ہیں، ان کا مان ہے، محبت اور خلوص ہے،جنھیں سمیٹنے کی کوشش ہمیشہ رہے گی۔ ایک بڑا حاصل عزت ہے ۔ساتھیوں کی ، طالبات کی، سہیلیوں کی احساس شکر سے دل بھرا ہے۔ طمانیت ہے جو کچھ ملا خوب ملا، جو نہیں ملا میرا تھا ہی نہیں ،سادہ سی زندگی، ہوس اور مادیت سے پاک، کتابوں کی دنیا ، بچوں کی کھلکھلاہٹ، آسودگی در آسودگی ہے۔

زندگی کے جو کردار منفی تھے، ان سے تہہ دل سے شکرگزاری ہے کہ ان کے دیے درد نے بتایا یہ درد آگے نہیں بڑھانا۔ ایک سبق ملا ڈگری سے زیادہ زندگی میں جذبہ اہم ہے، جس میں سب بدل دینے کی طاقت ہے۔ اسی سے زندگی اور حرارت ہے۔ زندگی میں مسلسل چلتے رہنا اہم ہے، ہلکے ہوں یا بوجھل سفر جاری رہنا چاہیے۔ منزل چلنے والے کی منتظر رہتی ہے۔

جو حالات بدلنے کا انتظار کرتے ہیں ۔کبھی سفر شروع ہی نہیں کر پاتے کہ حالات کبھی نہیں بدلتے خود کو بدلنا ہوتا ہے۔ یہ پتہ چلا مقصد کا تعین کر کے وقت پر چلنا شروع کردینا چاہیے، ورنہ بہت دیر ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے بدلنے کی اُمید میں وقت ضائع کرنے سے آسان خود کو بدلنا ہے، سوچ بدلنا ہے۔ منظر خود بخود بدل جاتے ہیں۔ احساس ہے جو وقت رہ گیا بہت قیمتی ہے۔

بس کچھ ایسا کرنے کی توفیق مل جائے جو بیج بونے جیسا ہو، جس سے صدیاں رس کشید کریں۔ دعا کا لازمی حصہ ہے۔ اللہ ہماری نسلوں کو دین کی خدمت کے لئے چن لے۔ آخری سانس تک اپنے دین کی خدمت لیتا رہے۔ زندگی سعادت اور موت شہادت کی ہو۔

نصف سے زیادہ سے مزید