• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک قومی المیہ ....

 کسی بھی معاشرے میں بچے محفوظ نہ ہوں تو اس معاشرے کی ترقی، تہذیب اور اخلاقی برتری محض ایک دعویٰ رہ جاتی ہے۔ معاشرے کی تہذیب کا پیمانہ اس کی بلند و بالا عمارتیں، شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتی بلکہ وہاں بچے اور عورتیں کس حد تک محفوظ ہیں،انہیں دیکھ کر پتا چلتا ہے۔

اب ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا کہا جا ئے گا، جہاں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد قتل کے واقعات وقتاً فوقتاً پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ چند روز تک میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی احتجاج کے بعد معاملہ دب جاتا ہے، مگر متاثرہ خاندان عمر بھر کے لیے اذیت، صدمے سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ جرم صرف ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پوری انسانیت، معاشرتی اقدار اور ریاستی ذمہ داری کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

ماہرینِ قانون اور تفتیشی اداروں کے مطابق ایسے جرائم میں قاتل اکثر اس لیے بچے کو قتل کر دیتے ہیں، تاکہ مجرم کی گرفتاری کی صورت میں گواہی نہ دے سکیں۔ ڈی این اے یا دیگر شواہد تک رسائی مشکل ہو جائے اور مجرم خوف، بدنامی یا گرفتاری سے بچ سکیں۔ لیکن جدید فرانزک سائنس اور ڈی این اے ٹیکنالوجی نے ایسے مجرموں کے بچ نکلنے کے امکانات پہلے کی نسبت بہت کم کر دیے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارےکی رپورٹ 2025 کے مطابق پاکستان میں 3,630بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آئے، ان میں:522ریپ کے اور 108 اجتماعی زیادتی کے مقدمات جب کہ 596 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور58 واقعات میں جنسی زیادتی کے بعد بچے کو قتل کر دیا گیا۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اوسطاً روزانہ 9 سے زائد بچے کسی نہ کسی قسم کے تشدد یا جنسی استحصال کا شکار ہوئے، متاثرین میں تقریباً 53 فی صد لڑکیاں تھیں۔ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے مقدمات کے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیوںکہ بہت سے خاندان بدنامی، سماجی دباؤ یا انصاف نہ ملنے کے خوف سے مقدمہ درج ہی نہیں کراتے۔

سوال یہ ہے کہ بچّوں سے زیادتی کے واقعات میں  کیوں اضافہ ہورہا ہے ۔ خاندانی تربیت کا فقدان ،منشیات کا بڑھتا استعمال ،قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں، متاثرہ خاندانوں پر صلح کا دباؤ، عدالتی کارروائی میں تاخیر، بچوں کو ’’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘‘ کی بنیادی تعلیم نہ دینا۔ جرائم میں اضافے کی اہم وجوہ ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد ازاں قتل کے کئی ایسے لرزہ خیز واقعات رونما ہوئے جنہوں نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ ان واقعات نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو کڑی آزمائش میں ڈالا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا صرف سخت سزائیں ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے کافی ہیں یا اس کے لیے ایک مضبوط، حساس اور بروقت انصاف فراہم کرنے والا نظام ضروری ہے؟

ان مقدمات میں سب سے نمایاں نام قصور کی سات سالہ زینب انصاری کا ہے، جسے جنوری 2018 میں اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ جدید ڈی این اے ٹیسٹنگ، فرانزک شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم عمران علی کو گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے اسے متعدد مرتبہ سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی، بعد ازاں اس کی تمام اپیلیں مسترد ہونے پر اسے پھانسی دے دی گئی۔

اس مقدمے نے ثابت کیا کہ اگر تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی جائے، شواہد محفوظ رکھے جائیں اور عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو تو قانون مجرم کو انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت یا عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں، جب کہ کئی کیسز آج بھی عدالتی کارروائی یا اپیلوں کے مراحل میں ہیں۔

یہ صورتِ حال اس بات کی غماز ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کا بروقت ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان مقدمات کا ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ متعدد واقعات میں ملزمان اجنبی نہیں بلکہ مقتولہ کے پڑوسی، رشتہ دار، خاندانی دوست یا جاننے والے ہوتے ہیں۔

اس حقیقت نے والدین کے اس روایتی تصور کو چیلنج کیا ہے کہ خطرہ صرف باہر کی دنیا سے ہوتا ہے۔ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اب صرف نگرانی نہیں بلکہ اعتماد، مکالمہ اور حفاظتی شعور بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ کسی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک خاندان کے خوابوں، ایک ماں کی گود، ایک باپ کی اُمیدوں اور ایک معاشرے کے اخلاقی ضمیر کا قتل بھی ہوتا ہے۔

اس جرم کے اثرات عدالت کے فیصلے یا مجرم کو سزا ملنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے، بلکہ کئی نسلوں تک اپنی بازگشت چھوڑ جاتے ہیں۔ متاثرہ خاندان پر نفسیاتی اثرات والدین کے لیے اولاد کی ناگہانی موت ویسے ہی ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتی ہے، لیکن جب اس موت سے پہلے بچے کو جنسی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑے ہو تو یہ غم کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ہم اکثر ایسے واقعات کے بعد صرف حکومت، پولیس یا عدالتوں کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں، حالانکہ معاشرہ بھی اس ذمہ داری میں شریک ہے۔ اگر ہم بچوں کی شکایات کو سنجیدگی سے نہ لیں، کسی مشکوک شخص کے رویے کو نظر انداز کریںیا بدنامی کے خوف سے جرم چھپا لیں، تو ہم دانستہ یا نادانستہ مجرم کے لیے راستہ آسان کر دیتے ہیں۔

آج کے دور میں والدین کی ذمہ داریوں میں بچوں کو صرف اچھی تعلیم دینا کافی نہیں، بلکہ انہیں اپنی حفاظت کرنا بھی سکھانا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں۔ انہیں’’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ ‘‘ کے بارے میں عمر کے مطابق آگاہ کریں۔

یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی انہیں ڈرائے یا دھمکائے تو وہ بلا خوف والدین کو بتاسکتے ہیں۔ بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ ان کی آن لائن سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ اسکول صرف نصابی تعلیم دینے کے مراکز نہیں بلکہ بچوں کی حفاظت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر اسکول میں بچوں کے تحفظ کی واضح پالیسی ہو۔ بچوں کو حفاظتی تربیت دی جائے۔

کسی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ جرم کو روکنا بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہر ضلع میں جدید فرانزک سہولیات دستیاب ہوں۔ پولیس کو بھی بچوں سے متعلق جرائم کی خصوصی تربیت دی جائے اور مقدمات کا فوری ٹرائل کیا جائے۔

ہم اکثر ایسے سانحات کے بعد چند دن تک غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر انصاف کے مطالبے کرتے ہیں، لیکن پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی معاشرے کو بدلنے کی کوشش کی، جہاں ایک معصوم بچی اپنے گھر، اسکول، گلی یا کھیل کے میدان میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی؟

اگر ہمارا ضمیر ہر سانحے کے بعد چند دن کے لیے جاگتا اور پھر سو جاتا ہے تو اصل مجرم صرف وہ درندہ نہیں، بلکہ وہ اجتماعی بے حسی بھی ہے جو ایسے جرائم کو بار بار جنم دیتی ہے۔ ایک مہذب قوم وہ نہیں جو مجرم کو صرف سزا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنے بچوں کو ایسا محفوظ ماحول دے کہ کسی درندے کو جرم کرنے کی ہمت ہی نہ ہو۔ اگر ایک معصوم بچی اپنے گھر، گلی، اسکول یا کھیل کے میدان میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو ہمیں اپنی اجتماعی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

نصف سے زیادہ سے مزید