خواتین کو بااختیار کیسے بنایا جائے؟یہ ایک سوال ہے لیکن اس کے جواب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری، ہے کہ خواتین کو با حیثیت انسان بھی برابر سمجھا جاتا ہے یا نہیں یا اُسے عورت سمجھ کر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے؟ وہ عورت جو برداشت کے کوہ گراں سے گزر کر نسل ِانسانی کو جنم دیتی ہےاور ماں کے درجہ پہ فائز ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے برابر کا انسان سمجھا جائے، اس سے صنفی امتیاز نا برتا جائے۔
ہمارے ملک میں دو طرح کے رویے پائے جاتے ہیں، ایک وہ جو عورت کو، مکمل محترم اور آزاد تصور کرتے ہیں۔ ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جب کہ عورت کو کمتر،نامکمل، محکوم سمجھنا اور اسے انسان کا درجہ بھی نا دینا، دوسرایہ انتہا پسندی کا رویہ ہے۔
خواتین حقوق کی بات کریں تو فوراً یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ گھر بیٹھے تو سب کچھ مل جاتا ہے۔ صنف نازک کہنا،زمانے سے ڈرانا،بیٹیوں کے مقابلے پر بیٹوں کو فوقیت دینا، پہننے اوڑھنے، کھانے پینے، ہر چیز میں بیٹوں کو اہمیت دینا، لڑکیوں کو واجبی تعلیم دلانا اور لڑکوں کی تعلیم پر بے دریغ خرچ کرنا۔
روزگار، تعلیم کے لیے باہر نکلنے والی عورت کیسے بھوکی نگاہوں کا مقابلہ کرتی ہے، یہ عورت سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ جنھوں نے عورت کو سوچنے پر مجبور کیا کہ ان میں ایسی کیا کمی ہے جو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ جب کہ اسلام عورت کو کمتر نہیں سمجھتا،تعلیم کی آزادی، پسند کی شادی، جائیداد میں حصہ، ماں کادرجہ، بیوی کے حقوق، بہنوں، بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کا کہا گیا ہے تو پھر کیوں خواتین کے ساتھ تفریق کی جاتی ہے، کیوں اسے ہر وقت ناقص العقل،ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔
ان رویوں سے اس سوچ نے جنم لیا کہ اُسے عورت کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ وہ بھی انسان ہے۔ آج بھی پنچایت کے فیصلے میں بطور سزا عورت کو استعمال کیا جاتا ہے، بھائی کے جرم کی سزا بہن کو’’ونی ‘‘کرکے کی جاتی ہے، کاری کرکے جرم کو چھپایا جاتا ہے، قبائلی روایات میں عورت کو بولنے کا حق نہیں،حصول تعلیم ان کے لیے جرم ہے، کھیتوں میں بھٹوں میں کام کرنے والیاں اپنی زندگی بھٹوں کی آگ کی نذر کردیتی ہیں ،غرض یہ کہ ہرجگہ عورت کا استحصال ہوتا ہے۔
حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آج بھی پاکستان کے کچھ شہروں میں عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے۔ سیاست داں، خواتین کے حقوق کی بات کرتے نہیں تھکتے، لیکن جب دُہرے معیار پرتوجہ دلوائی جائے تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ عورت کو برابری کا درجہ دینے والے جب اپنے برابر کسی عورت کو کھڑا دیکھتے ہیں تو نخوت سے ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں، ان سے برداشت ہی نہیں ہوتا کہ عورت ان کے برابر کھڑی ہو۔
جب خواتین اپنے حق، اپنے اختیار کے لیے میدان عمل میں داخل ہوتی ہیں تو ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں،ایک ملازمت پیشہ خواتین ان تمام مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں، چاہے وہ گھر میں کام کرنے والی ماسیاں ہوں،یا اہم عہدے پر کام کرنے والی، انہیں اوجھی نظروں اور چبھتے جملوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اس سب کے باوجود انہوں نے اپنی محنت شاقہ اور کوششِ پہیم سے معاشرے میں سر اٹھا کرجینا سیکھ لیا ہے۔
قائداعظم نے28 مارچ1948ء کو ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے اپنے خطاب میں فرمایاتھا’’ قوم کی تعمیر، اس کے استحکام کے عظیم اور کٹھن کام کے سلسلے میں خواتین کو،اہم کردار ادا کرنا ہے، وہ قوم کے نوجوانوں کے کردار کی معمار ہیں جو مملکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ حصول، پاکستان کی طویل جدوجہد میں مسلمان خواتین اپنے مردوں کے پیچھے مضبوطی سے ڈٹی رہیں۔ تعمیر ِ پاکستان اس سے بھی بڑی جدوجہد ہے، جس کا اب ہمیں سامنا ہے یہ نا کہا جائے کہ پاکستان کی خواتین پیچھے رہ گئی ہیں‘‘ ۔
پاکستان کی کل آبادی میں خواتین کا تناسب 49 فی صد ہے۔ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے زیادہ ہے،اس طرح پاکستان میں خواتین کی کل تعداد 12 کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو خواتین پر مشتمل ہے،کام کرنے والی خواتین ملک کی کل آبادی کا 23 فی صد ہیں۔ انہیں ملکی ترقی میں ہاتھ بٹانے کے لیے آمادہ کرنا ضروری ہو گیا ہے، اس لیے انھیں حکومتی سطح پر ایسے مواقع دینے ہوں گے کہ وہ بااختیار خواتین کا درجہ پاسکیں، کیوں کہ بااختیار خواتین ہی ملک کی ترقی میں حصہ لے سکتی ہیں،ان میں شعور بیدار کرنا ہوگا،تا کہ وہ ہر شعبے میں کام کرسکیں۔
بااختیار بنانے میں سب سے اہم ستون تعلیم ہے، شہری علاقوں میں تو یہ شعور اُجاگر ہوچکا ہے اور لڑکیاں تعلیمی میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں لیکن دیہی اور قبائلی علاقوں میں اب بھی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے، اس کے لیے حکومت کو اصلاحات کرنی ہوں گی، تاکہ وہاں کی خواتین میں بھی شعور پیدا ہو۔ وہ بھی انسان ہیں، تعلیم حاصل کرناان کا پورا حق ہے۔ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کو سنوراتی ہے۔ ان کے حقوق سے آگاہ کرواتی ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔
اپنی بیٹیوں میں اس سوچ کو مستحکم کریں کہ کامیابی کا جنس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔تعلیم ہی بااختیار بننے کی کلید ہے۔ بنیادی تعلیم کے علاوہ لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم اور اپنی دلچسپی کے مطابق پیشہ وارانہ کورسیزکی تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے ،تاکہ ان میں خود اعتمادی آئے اور وہ بااختیار ہوسکیں۔ اس کے لیے افراد خانہ کی مدد اورحکومتی سطح پر سہولیات ضروری ہیں۔
گرچہ پارلیمنٹ میں خواتین کی دس فی صد نمائندگی کو اب پینتیس فی صد نمائندگی میں بدل دیا گیا ہے لیکن یہ کامیابی مکمل نہیں ،ابھی بھی اس میں تفریق نمایاں ہے۔ اُن پر تشدد کا بل تو منظور ہوگیا ہے لیکن تشدد کرنے والوں میں سے پانچ فی صدکوہی سزا مل پاتی ہے، ہزاروں خواتین گھریلو تشدد کا خاموشی سے شکار ہورہی ہیں۔ اس لیے سماجی تبدیلی اور قانون کی عمل داری ضروری ہے۔
ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اپنے حقوق کی جنگ بہتر طریقے سے لڑ سکتی ہے۔ آج کی عورت اپنا حق پہچاننے لگی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سب سے پہلے گھر کے مردوں کو ہمت دکھانی ہوگی، حکومتی سطح پر اصلاحات اور خود خواتین کا کردار اہم ہے ،ایک بااختیار عورت ہی وراثت میں اپنا حق ،طلاق اور خلع کے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرسکتی ہے۔