• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’شکر الحمدللہ‘‘ مسائل کے حل کا جادوئی نسخہ

تم کام کر کر کے بیزار نہیں ہو جاتیں۔ یہاں سے اتنے گھروں کا کام کر کے جاتی ہو اور پھر اپنے گھر کا بھی کرتی ہوگی۔ تھکن اور بیزاری نہیں ہوتی تمہیں، غصہ نہیں آ تا اپنی قسمت پر۔ میاں سے نہیں کہتیں کہ کوئی کام کرے، تاکہ تم بھی گھر میں آ رام سے بیٹھو۔ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے برتن دھوتی ماسی سے اچانک ہی ہم نےایک ساتھ اتنے سوال کرکے اُسے پریشان کردیا، جس کا اندازہ اُس کے چہرے سے ہورہا تھا ۔وہ پتیلی مانجھتے ہوئے بولی۔

ارے باجی! ہمارے گھر میں اتنا کام کہاں ہوتا ہے۔ہم تو گھر جا کر بس روٹی پکاتے ہیں آ پ باجیاں جو بچا کچھا کھانا یا سالن دال وغیرہ دے دیتی ہیں، وہ یا کچھ چٹنی اچار سے روٹی کھا لیتے ہیں۔ بس ہمارا کھانا ہوگیا۔ ایک کمرا ہے اسی میں سب چادریں بچھا کر سو جاتے ہیں۔ صبح سمیٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے گھر میں کام ہی کتنا ہوتا ہے۔ نہ اتنا کھانا ہوتا ہے کہ برتنوں کا ڈھیر ہو۔ بس اللہ کا شکر ہے باجی کہ اللہ بھوکا نہیں سلاتا۔

ماسی کی یہ بات سن کر اس کی شکر گزاری دیکھ کر ہم دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کررہے تھے کہ کیا قناعت اور کیا شکر گزاری ہے اور ہم لوگ جو دن رات انواع و اقسام کے کھانے اور اللہ کی بےشمار نعمتوں کے مزے لیتے ہیں، پھر بھی ہر وقت شکایات ہی نکلتی ہیں۔ دن رات اپنے نصیبوں کو کوستے ہیں۔ اپنے کاموں کا رونا روتے ہیں اپنی تھکن پر شور کرتے ہیں۔

جبکہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو اللہ کی رحمت، بخشش، عطا اور اس کی برکت ہے جو ہمارے رزق میں اتنی فراوانی ہے کہ ہمیں پکانے کے لیے اتنے آپشن ہیں کہ سوچنا پڑتا ہے کہ آج کیا پکائیں؟ اس کو بھی ہم مصیبت سمجھ لیتے ہیں کہ روزانہ سوچو کہ کیا پکانا ہے۔ ہمیں اتنا کھانا مل رہا ہے کہ برتن دھوتے دھوتے ہم تھک جاتے ہیں، اتنا بڑا گھر اس نے عطا کیا ہے، جس کی صفائی ستھرائی میں ہمیں پورا دن گزر جاتا ہے، اتنے کپڑے دئیے ہیں کہ جن کی دھلائی یا سیٹنگ میں ہمیں گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔

یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے لیے لوگ ترستے ہیں۔ حالیہ صورتحال میں اگر ہم اپنے اطراف نظر ڈالیں تو مہنگائی اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، امن و امان کی دگرگوں صورتحال معاشی طور پر ہر شخص پر اثرانداز ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر ہمیں تین وقت بھرپور کھانا مل رہا ہے، پہننے کو کپڑوں کا ڈھیر موجود ہے، رہنے کو گھر ملا ہوا ہے تو ہم سے بڑا خوش نصیب کوئی نہیں۔

اکثر اوقات صرف خواتین ہی نہیں مردوں کو بھی دیکھا ہے کہ ان کی ناشکری ختم نہیں ہوتی۔ ہر وقت شکایات ان کی زبان پر ہوتی ہیں کبھی بیوی کی فضول خرچی کی شکایتیں کبھی اس کی زبان درازی کی کبھی بچوں سے نالاں توکبھی سسرال سے شکایت کہ، عزت کم ملی۔ غرض موقع ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ تو شکوہ، شکایت ہو جو دنیا کے آ گے رونا روئیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اللہ نے آپ کو دیا ہے تو بیوی کی فضول خرچی برداشت کررہے ہیں یا ہوسکتا ہے آ پ نے اتنا دل دکھایا ہو اپنی بیوی کا جو اس نے پلٹ کر جواب دیا۔

اب وہ وقت تو ہے نہیں کہ آپ جوتے مارتے رہیں اور بیویاں سر جھکا کر مار کھاتی رہیں، عزت کی ضرورت دونوں فریقین کو ہوتی ہے۔ عزت کروانے کے لیے آ پ کو پہلے دوسرے کی عزت کرنی بھی پڑتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنانے سے صرف گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے اور گھر میں بے برکتی ہوتی ہے۔ اکثر گھروں کا ماحول اس لیے خراب ہوتا ہے، کیونکہ ان گھروں میں ایک دوسرے کے لیے دل میں کینہ اور بغض ہوتا ہے۔

ایک دوسرے کے لیے دل میں ناراضگی یا ناشکرگزاری ہوتی ہے۔ شکر ’’الحمدللہ‘‘ وہ جادوئی کلمہ ہے، جس کی ادائیگی نہ صرف آ پ کے دل کو سکون دیتی ہے بلکہ زندگی میں بھی برکتیں لاتی ہے۔ میاں بیوی سے ناراض، بیوی میاں سے خفا۔ بچے دونوں ماں باپ سے بیزار، ساس بہو سے چڑتی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے آ پ کو ایک حلال اور خوبصورت رشتے میں جوڑا۔ اس رشتے کے توسط سے آ پ کو اولاد دی۔

اکثر ایسی مائیں ہوتی ہیں جو بیٹوں کی شادی تو کر دیتی ہیں لیکن اپنی بہو کو دل سے قبول نہیں کر پارہی ہوتیں، وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتیں کہ بیٹا اب بلکہ کسی کا شوہر بھی ہے، اس عورت کا بھی اس مرد پر حق ہے، جس کو بیاہ کر ہم گھر لائے ہیں۔ وہ اپنی ہی بہو بیٹے کی خوشیوں سے جلنے لگتی ہیں۔ ان میں غلط فہمیاں اور بدمزگیاں پیدا کرتی ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتیں کہ میرے غلط رویے سے میرے بیٹے کا ذہنی سکون برباد ہوگا۔

وہ اس بات کا شکر ادا نہیں کرتیں کہ اللہ نے ان کو ان کی زمہ داری ادا کرنے کی توفیق دی۔ان کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں بہو ان کا بیٹا ان سے نہ چھین لے۔ایسے ہی کچھ بہوئیں اپنی ساسوں سے جلنے لگتی ہیں کہ ان کا شوہر جو ان کا بیٹا بھی ہے، اگر اپنے ماں باپ کا خیال رکھ رہا ہے تو انہیں مسئلہ ہونے لگتا ہے کہ کیوں ان کے اوپر خرچا کررہا ہے اپنے شوہر کے پیسے پر اس وقت صرف میرا حق ہے۔

وہ یہ بات بھول جاتی ہیں کہ ان کے شوہر کو پال پوس کر ان والدین نے ہی اس قابل بنایا ہے کہ وہ آ ج اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کررہا ہے۔ یہ ناشکرا پن گھروں کو برباد کر دیتا ہے۔ ایک دوسرے سے جلن اور حسد سے رشتے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیویوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ شادی کے بعد وہ میکے سے بالکل لاتعلق ہو جائیں۔ صرف اپنے شوہر اور اپنے سسرال کی خدمت کریں۔ یہ دونوں رویے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ مردکو بھی اپنی بیوی کے ماں باپ کی اتنی ہی عزت کرنی چاہیے جتنی وہ اپنے ماں باپ کی کرتا ہے۔

زندگی کے ہر رشتے میں نا شکرا پن زہر گھول دیتا ہے۔ چاہے وہ دوستیاں ہوں،رشتہ داریاں ہو ں یا مالک اور نوکر کا تعلق ۔جہاں بھی اکڑ اور ناشکرا پن آ تا ہے وہاں تعلق بوجھ بن جاتا ہے۔ شکر الحمدللہ بولنے میں زبان پر بہت ہلکا لیکن دل اور ذہن کو وہ سکون عطا کرتا ہے، جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل ہمیں باور کرواتا ہے کہ یہ جو بھی ہمیں اللہ نے عطا کیا اس کا شکر ادا کرنا رزق اور سکون میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

شکر الحمدللہ کہنے سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ان لاکھوں لوگوں سے بہتر ہیں جن کے پاس اللہ کی یہ سب نعمتیں میسر نہیں ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہے ۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے قریبی رشتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔

جو ماں باپ بہن بھائی کے رشتے کے لیے تڑپتے ہیں اور ہم جو ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ان کا ناشکرا پن ہی ختم نہیں ہورہا۔ اکثر گھروں میں ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ شوہر بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کر رہے ہیں لیکن ساتھ میں اپنی بدکلامی یا احسان جتا جتا کر اس خوشی کے احساس کو ہی ختم کر دیتے ہیں جو ملنے کے بعد بیوی بچوں میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔

وہ مرد اس بات کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی ضروریات اس مشکل دور میں بھی پورا کر پا رہے ہیں۔ وہ اس ناشکری میں رہتے ہیں کہ میرا اتنا خرچا ہوگیا۔ یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر شکر کرنا شروع کیا جائے تو ہر سانس کا شکر ادا کرنا واجب ہوگا کیونکہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہیں سانس لینے کے لیے آ کسیجن خریدنا پڑتی ہے اور وہ ہر سانس کی قیمت ادا کررہے ہیں۔

آ پ صبح اٹھتے ہیں تو آپ پر شکر واجب ہے کہ آ پ ایک نئ صبح میں سانس لے رہے ہیں۔ اگر آ پ کو چلنے پھرنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑ رہی تو یہ بھی شکر کا مقام ہے اگر آ پ کھانا کھا رہے ہیں اسے ہضم کر رہے ہیں تو یہ بھی اس رب کا شکر ہے، کچھ لوگ لکھ پتی کروڑ پتی ہونے کے باوجود حلق سے کھانا نہیں اتار پاتے۔ اگر آپ برسر روزگار ہیں تو یہ بھی اللہ کی رحمت ہے ورنہ سینکڑوں لوگ بیروزگاری سے تنگ آ کر خودکشیاں کر لیتے ہیں۔

سب سے اہم یہ کہ اگر آپ حالت امن میں ہیں تو شکر الحمدللہ کہیں کیونکہ اس وقت پوری دنیا میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جس میں لاکھوں افراد بے گھر، ہزاروں بچے بڑے شہید اور گھر برباد ہوچکے ہیں۔ غذا کی قلت سے لاکھوں افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ اور ہم سکون سے اپنے ٹھنڈے گھروں میں بیٹھ کر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں، اپنی خودساختہ مشکلات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر دیکھیں تو ناشکرا پن بے انتہا نظر آ تا ہے کوئی کسی کی بڑی گاڑی دیکھ کر اپنی چھوٹی گاڑی پر روتا ہے، کوئی کسی کا بڑا گھر دیکھ کر اپنے چھوٹے مگر پُرسکون گھر پر ناشکرا پن کرتا ہے، کوئی کسی کی اولاد کی ترقی اور کامیابی دیکھ کر اپنے بچوں کی کامیابی بھول جاتا ہے اور حسد، ناشکرا پن کرتا ہے۔ کوئی کسی کا کاروبار اچھا چلتا دیکھ کر جلن اور حسد سے اپنے حالات پر کڑھنے لگتا ہے۔

سب سے بدترین بات ہے کہ آپ کسی سے اس کے حال پوچھیں تو ٹھنڈی آ ہ بھر کر ایسا ظاہر کیا جاتا ہے کہ بس جیسے کتنی مشکل میں گزارا ہورہا ہے جبکہ آ پ کو سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے ایسا نہیں ہے جیسا بیان کیا جارہا ہے۔ اسی لیے آ پ کو معاشرے میں اس وقت ایک دوسرے سے آ گے نکلنے کی جو دوڑ لگی دکھائی دے رہی ہے اس کی وجہ یہی ناشکرا پن ہے۔

اپنے حال پر قناعت اور شکر نہیں دوسرے کے حالات پر جل، کڑھ کر اپنے آ پ کو مشکل میں ڈالتے ہیں۔ یہی حسد اور جلن آ پ کو کسی پل چین سے جینے نہیں دیتا اور آ پ دوسرے کا محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی بھی جلا بیٹھتے ہیں۔ اسی لیے شکر الحمدللہ کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیجیے دیکھیے گا کس طرح آ پ کی زندگی بہتر سے بہترین کی طرف گام زن ہوجائے گی۔

نصف سے زیادہ سے مزید