• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’یہ رمشا ہے18سال کی۔ جب نویں جماعت میں پڑھ رہی تھی تو والدین میں طلاق ہو گئی۔ دونوں نے دوسری شادی کر لی۔ اسے ماموں نے سنبھالا اور جلد شادی کر دی، اسے چھ ماہ کا حمل ہے۔ ساس اور شوہر جاہل بولتے ہیں ادھوری تعلیم کا طعنہ دیتے ہیں۔ شوہر کہتا ہے بچہ پیدا ہو جائے تو تمہیں چھوڑ دوں گا… تم بھی اپنی ماں کی طرح دربدر ہونا۔‘‘

’’یہ زرسانگہ ہے ،جس کے پانچ بچے ضائع ہونے کے بعد اب دس ماہ کا بچہ اس کی گود میں ہے۔ منہ پر نیلا نشان ہے، ہونٹ سوجا ہوا ہے۔ منہ کچھ ٹیڑھا بھی ہے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شوہر نے مارا تھا تو جبڑے کی ہڈی چٹخ گئی اب درد کم کرنے کی دوا لینے آئی ہے۔ ماں باپ فوت ہو چکے ہیں۔

ایک بھائی تھا قتل ہو گیا۔ ایک رشتے کا چاچا ہے وہ بھی گاؤں میں ہے۔ تم یہ تشدد یہ مار پیٹ کیوں برداشت کرتی ہو۔ جی مار تو روز ہی کھاتی ہوں پر کیا کروں۔ کہاں جاؤں، کھانے کو روٹی تو مل جاتی ہے۔ ‘‘تعلیم کتنی ہے؟ جی ہمارے یہاں لڑکیوں کو نہیں پڑھاتے ہیں۔

’’یہ سلمیٰ ہے چار بچوں کی ماں۔ مدد کے لئے آئی ہے۔ شوہر کا انتقال ہو گیا ہے جو مزدوری کرتا تھا چوں کہ خاندان میں سب ہی غریب ہیں۔ اس لئے اسے بچوں کو خود ہی سنبھالنا ہوگا۔‘‘تعلیم…؟ جی ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں ہے۔

’’یہ صائمہ ہے۔ اس کی پانچ ماہ کی بیٹی ہے۔ اس کی ڈیلیوری میکے میں ہوئی ہے، کیوںکہ ان کے خاندان میں رواج ہے کہ پہلا بچہ میکے میں ہوتا ہے جب سے شوہر نے لڑکی کا سنا ہے وہ بیٹی کو دیکھنے بھی نہیں آیا۔ کہتا ہے مجھے لڑکی نہیں چاہیے۔ ساس آئی تھی یہ کہہ کر گئی ہے کہ تم اپنی ماں کی طرح لڑکیاں ہی پیدا کرو گی۔‘‘ تعلیم…؟ جی صرف قرآن پڑھا ہے۔

یہ چار بے بس لاچار مجبور عورتیں ہیں ۔ کہانی ایک ہے۔ تعلیم اور وسائل کی کمی۔ ان کے حالات پرغور کریں تو ایک ہی حل سامنے آتا ہے۔ تعلیم اور عورت کی بااختیاری۔

خواتین کو بااختیار بنانے سے مراد عورت کو معاشرتی معاشی تعلیمی اور سیاسی سطح پر وہ مقام دینا ،جس کی وہ حق دار ہے، تاکہ وہ خود کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک خود مختیار اور فیصلہ ساز فرد کے طور پر اعتماد، اعتبار اور اختیار کے ساتھ معاشرے کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کر سکے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے یہاں عورت کو بااختیار بنانا نا صرف سماجی ضرورت ہے بلکہ یہ قومی ترقی کے لیےبھی بہت ضروری ہے۔

پاکستان میں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ انہیں آج بھی تعلیم، صحت روز گار اور فیصلہ سازی کے میدان میں مکمل مواقع حاصل نہیں ہیں صنفی امتیاز روایتی سوچ پدر شاہی نظام، غربت اور تعلیم کی کمی خواتین کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ صنفی امتیاز میں پاکستان دنیا کے 146ممالک میں 145ویں نمبر پر ہے۔

آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے اور اسے غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرے میں مرد کو برتری حاصل ہے ، عورت کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ بچپن ہی سے لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ ان کا اصل کردار گھر تک محدود ہے، جب کہ لڑکوں کو فیصلوں کا حق دیا جاتا ہے ،یہی فرق آگے چل کر عورت کی خود اعتمادی، تعلیم اور عملی زندگی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کی بنیاد ہے۔ نیولین نے کہا تھا ’’مجھے ایک پڑھی لکھی عورت دو تمہیں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ قوم دوں گا۔‘‘

ایک تعلیم یافتہ عورت ناصرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی ہے بلکہ ایک نسل کی پرورش اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ بدقسمتی سے ملک کے ایک دیہی اور پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ غربت، کم عمری کی شادی، اسکولوں کی کمی اور عدم تحفظ جیسے مسائل لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ خواتین کی معاشی خومختاری کا ایک اہم ستون ہے۔

کام کرنے والی عورت اپنے حق کیلئے مضبوط آواز بن سکتی ہے۔ وہ ناصرف اپنے خاندان پر بوجھ ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ جب عورت گھر کے اہم اخراجات میں اپنا حصہ ڈالتی ہے تو وہ مرد کا بوجھ بانٹتی ہے۔ مالی طور پر مستحکم خاندان کا ماحول مالی مسائل میں گھر ے گھرانے کے مقابلے میں زیادہ پر سکون ہوتا ہے۔ عورت اور مرد معاشی طور پر مضبوط ہوں تو بچے بھی آسودہ ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت بھی بہتر طریقے سے کی جا تی ہے۔

آج کئی پاکستانی خواتین اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئر ز، پولیس فوج وکلا کاروبار اور زرعی اور گھریلو مزدور کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، مگر انہیں مردوں کے مساوی تنخواہ، ترقی کے محدود مواقع اور کام کی جگہ پر ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

حکومت نے خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے قوانین بھی بنائے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد اور ان کا اطلاق بھی ضروری ہے۔ ایک بااختیار عورت کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہونا بھی ضروری ہے۔ وطن عزیز میں خواتین کو صحت کی ناکافی سہولیات، زچگی کے مسائل، غذائی قلت اور گھریلو تشدد جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

تشدید اور ظلم کے خلاف بنائے گئے قوانین کے باوجود اکثر خواتین خاموش رہنے پر مجبور ہیں، کیوںکہ انہیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے سماجی سطح پر بھی خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے خواہ وہ گھریلو معاملات ہوں یا معاشرتی۔

عورت کو بااختیار بنانا صرف قوانین سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیےمعاشرتی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ اور یہ تبدیلی عورتوں کو خود لانا ہو گی۔ وہ ہرگز کمزور نہیں، بس ہمیں اپنی قوت اور طاقت کو پہچاننا ہو گا۔ ہمیں اپنی بچیوں کو بیٹیوں کو تعلیم کے ساتھ مضبوط بنانا ہوگا۔ اپنی بیٹوں کو اعتماد خوداری اور خود مختاری سیکھنا ہی اصل بااختیاری ہے۔ یہ کوئی مغربی تصور نہیں بلکہ بااختیار عورت پاکستان کی ترقی کیلئے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

بیٹیوں کو بتائیں جس طرح پنکھ پرواز کیلئے ہوتے ہیں اسی طرح ہاتھ اور پاؤں آگے بڑھنے، کوشش کرنے اور اپنی راہ خود بنانے کیلئے ہوتے ہیں۔ بیٹیوں کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ کیسے بھی حالات ہوں اپنے حوصلے کے بل پر کھڑی ہو سکیں، پھر کوئی رمشا کوئی زرسانگہ، سلمیٰ اور صائمہ محرومی اور تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوں۔ بااعتماد، باکردار ، خود دار اور خود مختار بیٹیاں نہ صرف اپنی زندگی سنوارتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی طاقت اور شعور کی مثال بنتی ہیں۔

نصف سے زیادہ سے مزید