اسلام آباد (افضل بٹ)آزاد کشمیر میں انتخابی درجہ حرارت کم کرنے اور نئی حکومت کی تشکیل کیلئے سازگار سیاسی ماحول پیدا کرنے کی غرض سے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ کل کے الیکشن بعد انتخابی عمل مکمل تصور کیا جائیگا، باقی نشستوں کو ضمنی انتخابات کے طور پر مکمل کیا جائیگا، پی پی کی سیاسی و آئینی حیثیت بڑھ گئی، کیونکہ موجودہ اسپیکر قائم مقام صدر ہیں، اسپیکر ایاز صادق نے چیئرمین یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ۔واضح رہے کہ موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی کا کردار اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نئی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آئینی طور پر صدرِ ریاست نے طلب کرنا ہے، جبکہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نو منتخب اراکین سے حلف لیں گے۔ اتفاق سے موجودہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے اور وہ اس وقت قائم مقام صدرِ آزاد جموں و کشمیر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ یوں نئی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے، نو منتخب اراکین کی حلف برداری، سپیکر کے انتخاب اور اس کے بعد حکومت سازی کے مرحلے میں پیپلزپارٹی کی سیاسی اور آئینی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی پس منظر میں گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر کی مجموعی انتخابی صورتحال، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی، ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور حکومت سازی کے آئندہ مرحلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔