اسلام آباد(ماریانہ بابر/اے پی پی ) پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے تسلسل کے دوران اسلام آباد تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہےاورانہیں دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے‘ پاکستان بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا دستخط کنندہ ہے۔ پاکستان عالمی سپلائی چینز اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمدکا پابند اور اس ضمن میں سعودی عرب اور دیگر اتحادی شراکت داروں کی مدد کے لیے تیار ہے‘مکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے‘ایگریمنٹ بڑا واضح ہے کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔دستخط سے قبل پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا‘ وزیراعظم‘ نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس معاملے پر مکمل طور پر متفق تھے‘یہ معاہدہ محض 3ممالک تک محدود نہیں ہے ‘پاکستان نے اپنے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تین جائزے کامیابی سے مکمل کیے ہیں‘ بھارت آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے جبکہ نئی دہلی کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریکارڈ پر توجہ دینی چاہیے ۔ دفترخارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بدھ کو یہاں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگرچہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ بھی ہوا ہو تاہم جب بھی ’’مذاکرات کی معقولیت‘‘ کشیدگی میں اضافے کی منطق پر غالب آئے گی، فریقین دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں گے۔