تفہیم المسائل
سوال: میں ایک کریانہ کی دکان سے گھر کی ضرورت کی اشیاء لیا کرتا تھا اور رقم کھاتے میں لکھوا دیتا تھا۔ ہفتے بعد میں کل واجب الادا رقم ادا کر دیتا تھا، اسی طرح تقریباََ کچھ ماہ چلتا رہا۔ اس کے بعد میں آخری ہفتے کا بل ادا کیے بغیر دوسرے شہر چلا گیا، اب میں دو سال بعد واپس آیا ہوں۔
میں نے دکاندار سے اپنے ذمے واجب الادا رقم کے بارے میں پوچھا، تو وہ کہتا ہے کہ اُسے اس بارے میں کچھ یاد نہیں کہ میں نے اسے پیسے دینے ہیں یا نہیں، مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے پیسے دینے تھے لیکن واجب الادا رقم کی مقدار اب یاد نہیں ہے، شاید کم وبیش تقریباً 4ہزار روپے ہو، اب مجھے کیا کرنا چاہیے ؟(ملک احسن)
جواب: یقیناً آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ آپ ہر ہفتے خریدے ہوئے سامان کی کتنی رقم ادا کیا کرتے تھے، اس رقم میں کتنا سامان لیا کرتے تھے، اُسی کے مطابق تخمینہ لگاتے ہوئے رقم ادا کردیں، کیونکہ بہر صورت آپ اس دکاندار کے مقروض ہیں اور آپ کے ذمے اس رقم کی ادائیگی واجب ہے۔
چونکہ دکاندار بھی موجود ہے، کمی بیشی کا معاملہ بھی فریقین کی باہم رضامندی سے حل ہوجائے گا، آپ نے زائد رقم ادا کردی، تو شریعت میں ایسی زیادتی کی گنجائش ہے جو معہود ہو اور نہ مشروط، یعنی پہلے سے طے نہ کردیا ہوکہ اتنی رقم اوپر لی جائے گی، حدیث پاک میں ہے: ترجمہ: ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو، (صحیح بخاری:2305)‘‘۔
اگر بالفرض آپ کی ادا کردہ رقم اصل واجب الادا رقم سے کم ہے اور دکاندار نے خوشدلی سے قبول کرلی ہے اور کسی ممکنہ کمی کو معاف کردیا ہے، تو آپ پر اُخروی بار نہیں ہوگا، علامہ حسن بن منصور اوزجندی المعروف قاضی خان ؒ لکھتے ہیں: ’’ کسی شخص کے دوسرے کے ذمے کچھ درہم تھے، جن کا وزن معلوم نہ تھا (کیونکہ اس دور میں درہم چاندی کے ہوتے تھے اور ان کا وزن معروف تھا) اس نے اس سے کسی معین سامان یا کپڑے پر مصالحت کی، تو جائز ہے، کیونکہ ثمن (یعنی فریقین کے درمیان طے شدہ قیمت) اگرچہ مجہول ہیں، لیکن جب قبضہ کی حاجت نہ ہوتو ثمن کی جہالت بیع کے جواز کو منع نہیں کرتی، (فتاویٰ قاضی خان ،جلد3،ص:45)‘‘۔