تفہیم المسائل
سوال: میں نے گل پلازہ، کراچی میں ایک دکان کا سودا تقریباً آٹھ کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے میں چار ماہ کے وعدے پر کیا تھا، لیکن دکان کے مالک نے مجھے کہا: مجھے پیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، آپ چھے ماہ میں پیمنٹ دیجیے گا، مجھے چائنا جانا ہے تو آپ مجھے جتنی پیمنٹ کر سکتے ہیں، ابھی کریں، باقی چار کروڑ روپے مجھے آپ جب چائنا جاؤں گا، تب کیجیے گا کیونکہ میں بینک میں بھی پیسے نہیں رکھ سکتا تو میں نے ان کو تقریباً چار ماہ کے اندر چار کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے پیمنٹ کر دی اور ابھی چار کروڑ روپے باقی تھے کہ مارکیٹ کا حادثہ ہو گیا اور مارکیٹ پوری کی پوری جل گئی۔
یہ پیمنٹ ان کے پاس موجود ہے اور انہوں نے کہیں ڈیڑھ کروڑ روپے کاروبار میں بھی لگائے ہیں۔ مسئلہ یہ پوچھنا ہے: جب مارکیٹ کو آگ لگ گئی ہے اور قبضہ ان کے پاس تھا، انہوں نے ابھی تک مجھے قبضہ بھی نہیں دیا تھا، کہ میں بقیہ پیمنٹ کرتا۔
دو مہینے کے بعد چار کروڑ روپے مزید تب دیتا، جب وہ مجھے قبضہ دیتے اور میرے نام پر ٹرانسفر کرواتے۔ دکان ابھی تک اُنہی کے نام پر ہے اور آئندہ کے لیے اس پر استحقاق بھی اُنہی کا ہے اور حکومتِ سندھ نے مارکیٹ کو ازسرِ نو بناکر دینے کا وعدہ کیا ہے اور وہ جب بھی دے گی، اُسی سابق مالک کو دے گی، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ میرے چار کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے جو دکان کے مالک کے پاس جمع ہیں، کیا وہ یہ رقم دینے کے پابند ہیں، پس جب وہ مارکیٹ جل گئی ہے، تو نقصان کس کا ہوگا؟(عبدالوہاب ، کراچی)
جواب: مکان، دکان یا کوئی بھی شے جو فروخت کی گئی ہو، قبضہ سے پہلے کسی آفت یا حادثہ میں ضائع ہوجائے، ہلاک ہو جائے، تو اُس کا نقصان بائع(فروخت کرنے والے) پر ہے، مشتری(یعنی خریدار )پر اُس کا بار نہیں ہوگا کیونکہ جب تک مشتری کو مال کا قبضہ نہ ملے، اُس پر ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ اگر تم اپنے بھائی کو پھل فروخت کردو، پھر ان پھلوں کو کوئی آفت لاحق ہوجائے تو تمہارے لیے اس سے کوئی عوض لینا جائز نہیں ہے، تم بغیر کسی حق کے اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض لوگے،( صحیح مسلم:1554)‘‘۔
آپ نے بطور ایڈوانس جتنی رقم ادا کی ہے، محمد امین صاحب پر وہ رقم واپس کرنا لازم ہے ، قبضہ سے پہلے دکان کے ختم ہوجانے کے سبب بیع فسخ ہوچکی ہے، علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اگر وہ مبیع قبضے سے پہلے ہی کسی آفت (قدرتی حادثے)کی وجہ سے مکمل طور پر ہلاک ہو جائے، تو بیع خود بخود ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اگر بیع باقی رہتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ خریدار سے قیمت کا مطالبہ کیا جائے گا اور جب (فروخت کرنے والا)قیمت کا مطالبہ کرے گا تو جواباً خریدار اُس سے اُس شے کی سپردگی کا مطالبہ (بھی)کرے گا، جبکہ فروخت کرنے والا اُسے(مبیع کو) حوالے کرنے سے عاجز ہے، لہٰذا (قیمت کا)مطالبہ ہی سرے سے ممنوع ہو گیا۔
پس بیع کو باقی رکھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا، اس لیے وہ فسخ ہو جائے گی اور جب بیع فسخ ہو گئی، تو خریدار کے ذمہ سے قیمت کی ادائیگی بھی ساقط ہو جائے گی کیونکہ بیع کا فسخ ہونا اسے جڑ سے ختم کر دینا ہے، گویا کہ سرے سے کوئی معاہدہ ہوا ہی نہ تھا،(بدائع الصنائع ،جلد5،ص:238)‘‘۔
علّامہ امام فخرالدین حسن بن منصور اوزجندیؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ کسی نے بیمار جانور خریدا جو بائع کے اصطبل میں تھا، خریدار نے کہا: یہ آج کی رات یہیں رہے گا، اگر یہ مر گیا تو میرا نقصان ہوگا، پھر وہ مر گیا؛ تووہ فروخت کرنے والے کے مال سے ہلاک ہوا ، خریدار کے مال سے نہیں ہوگا،(فتاویٰ قاضی خان ،جلد2،ص:131)‘‘۔
علّامہ نظام الدین ؒلکھتے ہیں: ’’کسی نے بیمار جانور خریدا جو بائع کے اصطبل میں تھا، خریدار نے کہا: یہ آج کی رات یہیں رہے گا، اگر یہ مر گیا تو میرا نقصان ہوگا، پھر وہ مر گیا، تووہ بائع (فروخت کرنے والے)کے مال سے ہلاک ہوا نہ کہ خریدار کے مال سے (کیونکہ ابھی قبضہ مکمل نہیں ہوا تھا)،’’ فتاویٰ قاضی خان‘‘ میں اسی طرح ہے،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد3)‘‘۔
خلاصۂ کلام یہ کہ جلنے سے نقصان دکان کے اصل مالک کا ہوا ہے اور آپ کے ادا کردہ چار کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے اُن کے ذمے واجب الادا ہیں، وہ انھیں آپ کو ادا کرنے ہوں گے، اس لیے کہ دکان جلنے سے وہ بیع از خود فسخ ہوگئی ہے کیونکہ اب بائع اس کو خالی کرکے خریدار کو قبضہ دینے پر قادر نہیں رہا ، شرعی حکم یہی ہے۔