آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ بارہ ربیع الاوّل رسول اللہ ﷺ کی تاریخ پیدائش ہے یا نہیں، اس میں تو اقوال مختلف ہیں، لیکن یہ یقینی بات ہے کہ آپﷺ کی تاریخ وصال 12 ربیع الاول ہے، اس میں اختلاف نہیں ہے۔
آپ سے سوال ہے کہ کیا یہ بات درست ہے کہ رسول اللہﷺ کی تاریخ وصال یقینی طور پر 12 ربیع الاول ہے؟
جواب: یہ بات درست نہیں کہ رسول اللہﷺ کی تاریخِ وصال یقینی طور پر 12 ربیع الاوّل ہے، نیز یہ بھی درست نہیں کہ اس سلسلے میں اختلاف نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تاریخِ وصال بیان کرنے میں مؤرخین کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے 7 ربیع الاول اور بعض نے 8 ربیع الاول کہا ہے، لیکن راجح قول یہ ہے کہ 2ربیع الاول بروز پیر سنہ 11ھ میں آپ ﷺکا وصال ہوا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکا وصال بروز پیر ہوا اور ربیع الاوّل سنہ 11ھ میں ہوا، یہ بات تواتر اور یقین کے ساتھ ثابت ہے، دوسری طرف یہ بھی تواتر سے ثابت ہے کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ میں یوم عرفہ جمعے کے دن تھا، اور اس کے تقریباً تین ماہ بعد رسول اللہ ﷺکا وصال ہوگیا۔ ماہِ ذو الحجہ سنہ 10ھ، محرم اور صفر سنہ 11ھ کے چاند تیس یا انتیس کے ہونے کے اعتبار سے چار احتمالات ہیں: (1)تینوں مہینے 30 کے ہوں۔ (2) تینوں مہینے 29 کے ہوں۔ (3) دو مہینے 30 کے اور ایک 29 کا ہو۔ (4) دو مہینے 29 کے اور ایک 30 کا ہو۔
مذکورہ چاروں احتمالات میں سے کسی بھی احتمال کے مطابق سنہ 11 ہجری کی 12 ربیع الاول پیر کے دن نہیں بنتی، اس لیے سوال میں مذکور قول کے برعکس یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی تاریخِ وصال 12 ربیع الاول نہیں ہے۔ البتہ دوسرے احتمال کے مطابق، یعنی تینوں مہینے 29 کے ہوں تو 2ربیع الاول بروز پیر بنتا ہے، اور محققین کے ہاں آپ ﷺ کی تاریخِ وصال یہی ہے۔
آپ ﷺ کے وصال کی تاریخ بارہ ربیع الاوّل حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے اور اس کا مدار انھوں نے اختلافِ مطالع پر رکھا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں چاند کی تاریخ مختلف ہونے کی وجہ سےتاریخِ وصال بیان کرنے میں فرق آیا ہے، لیکن محققین نے یہ توجیہ قبول نہیں کی۔ فلکیات کے ماہرین نے بھی حسابی اصولوں کے مطابق یکم یا دو ربیع الاوّل کو ہی درست تاریخ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے آپ ﷺ کی تاریخِ وصال 12 ربیع الاول مشہور ہونے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ بعض کتابوں میں "ثانی شھر ربیع الاوّل" (ماہِ ربیع الاول کی دو تاریخ) لکھا گیا تھا، جسے "ثانی عشر" (ماہِ ربیع الاول کی بارہ تاریخ) سمجھ یا پڑھ لیا گیا، یوں رسول اللہ ﷺ کی تاریخِ وصال کے متعلق بارہ ربیع الاوّل کی شہرت ہوگئی۔ علامہ سہیلی نے الروض الانف میں اور علّامہ ابن حجر ؒنے فتح الباری میں 2ربیع الاول کے قول کو راجح قرار دیا ہے۔