آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: مسجد اور مدرسے کے خزانے میں رقم کافی جمع ہوگئی ہے، کیا اسے کسی ایسے نفع بخش کاروبار میں لگایا جاسکتا ہے جس میں نفع غالب ہو؟
جواب: مساجد و مدارس کے خزانے میں جمع شدہ رقم متولی و منتظم کے پاس امانت ہے، اس کا مصرف مسجد و مدرسے کی ضروریات ہیں، اس کے علاوہ کسی مصرف میں یہ رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا مسجد اور مدرسے کے خزانے میں جمع شدہ رقم کوتجارت میں لگانا جائز نہیں ہے، خواہ جمع شدہ رقم مسجد و مدرسے کی موجودہ ضرورت سے زائد ہو، اور تجارت میں نفع کا غالب گمان ہو۔