• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلامی فلاحی مملکت، آزاد وطن ایک عظیم نعمت

ڈاکٹر نعمان نعیم

آزادی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے، بے شمار قربانیاں دے کر پاکستان کا قیام عمل میں آیا، پاکستان کا وجود اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، پاک وطن شب قدر 27رمضان المبارک 14اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ آزاد وطن کا حصول اور اس میں آزاد فضاؤں کا سانس لینا اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق امن، سلامتی، اور دینی احکامات کے نفاذ کے لیے آزاد خطہ ہونا ایک بہت بڑا انعام ہے جس کی قدر اور شکر ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان برسہا برس کی طویل جدوجہد، ہزاروں مسلمانوں کی شہادت، لاکھوں فرزندان اسلام کی ہجرت ،پرخلوص ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بچوں کی دعاؤں کی برکت سے آزاد ہوا۔ پاک دھرتی کی بدولت ہم مذہبی طور پر آزاد اور اپنے دین پر عمل پیرا ہیں۔ وطن کی برکت سے معیشت روزگار، عزت، اطمینان اور بے شمار نعمتیں میسر ہیں۔ وطن ہی کی بدولت یہاں کی مساجد، مدارس، خانقاہیں اور روحانی مراکز آباد ہیں۔

ریاست پاکستان ہی یہاں کے مردوزن پیروجوان کی پہچان اور سب کی مان ہے، اس کی تعمیرو ترقی، استحکام و بقاء سب ہی کی آرزو اور تمنا ہے، وطن کے بیٹے وطن کے وفادار ہیں، ریاست ماں کی حیثیت رکھتی ہے، ماں کی خدمت ، راحت، اکرام، احترام ماں کا حق ہوتا ہے۔ پاکستان ہمیں دل و جان سے عزیز ہے اور ہونا بھی چاہئے، کیونکہ وطن کے ہم پر شرعی، اخلاقی اور آئینی حقوق ہیں، شرعاً واخلاقاً وطن سے محبت، وطن کے باسیوں کا فریضہ ہے۔

قرآنِ کریم میں پوری صراحت اور وضاحت سے اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ اہل ِ ایمان کو اللہ تعالیٰ اگر کسی مملکت یا سرزمین پر اقتدار اور حکمرانی کا اختیار عطا کریں گے تو وہ وہاں نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ کا نظام قائم کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔

ان تعلیمات کی روشنی میں مملکت ِخداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی اور نظام مصطفیٰﷺ کا نفاذ اربابِ اقتدار اور حکمرانوں کا دینی و اجتماعی فریضہ ہے۔قیام پاکستان کے بنیادی محرکات میں سب سے پہلا اور بنیادی محرک اسلامی نظام اور نظریے کا احیاء تھا۔ قیام پاکستان تک یہی جذبہ آزادی اور تحریک پاکستان کی بنیاد بنا۔نظریۂ پاکستان کی بنیاد کلمۂ طیبہ اور دین کی بالادستی پر قائم ہے۔ اسی مقصد اور جذبے کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

اسلامی ریاست کی بنیاد خالصتاً قرآن وسنّت پر قائم ہے، جہاں حکومت وعوام کے مابین ایسا عمرانی میثاق قائم ہو کہ جس کے نتیجے میں نہ تو عوام اپنے حکمرانوں سے ادائے حقوق کا مطالبہ کریں اور نہ ہی حکمراں رعایا کے حقوق میں کسی کوتاہی کا ارتکاب کریں۔رسول اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ تم میں سے ہرشخص راعی یعنی صاحب ِ فرض وادا اور ذمے دار ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیّت یعنی صاحبانِ حقوق کی بابت پوچھاجائے گا۔

پس امام یعنی حکمراں لوگوں کا ذمے دار ہے اور اُس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ باپ اپنے گھروالوں کا ذمے دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھاجائے گا اور ماں اپنے خاوند کے گھر اور بچّوں کی ذمے دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں بازپُرس ہوگی اور غلام اپنے آقا (یاماتحت اپنے بڑوں) کے مال ومنال میں ذمے دار ہیں اور اُن سے اس کی ذمے داریوں کی بابت سوال ہوگا۔

اسلامی ریاست کے آٹھ بنیادی واساسی عناصر اور خدوخال ہیں جن کے بغیر اسلامی ریاست کا تصور ناممکن ہے، جس معاشرے میں یہ عناصر قائم ہوں گے وہی اسلامی ریاست کہلانے کی مستحق ہوگی۔٭ حقوق وفرائض کا تعین٭ شورائیت ٭بنیادی سہولیات کی فراہمی٭ تحفظ جان ومال وعزت نفس اور قیام امن٭ فواحش سے پاک انفرادی واجتماعی زندگی٭معاشرتی طبقات میں مساوات کی تنفیذ٭ عدل وانصاف کا نفاذ ٭ بے لاگ احتساب۔

اسلامی ریاست کے حکمرانوں کی صفات اور ذمے داریوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی کیا ہے کہ وہ اقامت ِصلوۃ، نماز کا نظام قائم کر تے ہیں۔نظامِ زکوۃ قائم کرتے ہیں۔امربالمعر وف، یعنی نیکیوں کا حکم دیتے ہیں۔ نہی عن المنکر، یعنی برائیوں سے روکتے ہیں۔ حکمرانوں کی ذمے داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رعایا کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔ اچھائیوں کی تاکید اور برائیوں کی روک تھام کریں۔ عہدے کی حرص نہ کریں۔

حکمرانوں کے لیے یہ بھی لا زم ہے کہ وہ اپنی حکمرانی کو بنیا د بنا کر اپنے لیے ترجیحی سہو لیا ت حا صل نہ کریں۔ عو ام کے لیے حکمرانوں تک پہنچنے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں۔ حکمرانوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ عوام کی معاشی حالت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیں، تاکہ وہ پر سکون، مطمئن اور آسودہ حال زند گی بسر کر سکیں۔

تعلیم،بیت المال، امن وامان، خوراک کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی فراہمی کی ذمے داری پوری کریں۔ رعایا کے جان ومال اور عزت و آبرو کا تحفظ ہر اسلامی حکمراں اور اسلامی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔اسلامی ریاست میں جہاں حکمرانوں پر بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں، وہیں رعایا کے ذمے بھی کچھ حقوق وفرائض ہیں، جن کی ادائیگی ان پر لازم ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رعایا ملکی قوانین کا دل سے احترام اور ان پر عمل کرے۔

صالح اور دیانت دار حکمرانوں کی اطاعت کی جائے۔بغاوت اور سر کشی اختیار نہ کی جائے۔وہ ملک کی تعمیر وترقی میں حکمرانوں کا ساتھ دے۔اخوت ومساوات کو ہر صورت میں قائم رکھے۔

رواداری‘ برداشت اور باہمی الفت ومحبت کے رشتے استوار کرکے اپنے ملک کو جنت نظیر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صلۂ رحمی، حسن سلوک، قرابت داروں اور پڑوسیوں کا خیال رکھا جائے۔ معاشرے کے کمزور طبقات یعنی بچوں، غرباء، مساکین، معذورین ومحتاج اور خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ دیگر اقوام ومذاہب یعنی اقلیتوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔

فحاشی ومنکرات اور تمام ایسے برے کاموں سے خود بھی محفوظ رہا جائے اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی تمام ایسی برائیوں سے دور رکھنے کی ترغیب دی جائے، جس سے معاشرے کا امن وسکون برباد ہونے اور نزاع واختلاف پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

اسلامی ریاست میں شہریوں پر جو ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان میں سرِفہرست یہ ہے کہ ریاست کا ہر شہری مملکت کابہترین اور مفید رکن بن کر رہے۔دوسرے یہ کہ ریاست کا ہرشہری حدوداللہ کی نگہداشت اور مملکت کی پاسبانی کرے۔ ہر شہری اپنی اور دیگر کی جان، مال اورعزت و آبرو کو ریاست کی مشترکہ ملکیت تصور کرے اور خود کو اس کا امین سمجھے۔

اسلام کے فلسفہ حکومت کی اساس درحقیقت عدل کی بالادستی اور رعایا کے حقوق کی ادائیگی پر ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریے پر قائم ہوا،وہ اسلامی مملکت کا قیام اور قرآن وسنت کا عملی نفاذ ہے۔ اسلامی نظام ہمارے نظام مملکت کی بنیاد اور اساس ہے۔

اس پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم فلاح وکامرانی، امن وسلامتی اور بے لاگ عدل پر مبنی اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں لاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انعامات و احسانات خصوصاً آزادی کی اس عظیم نعمت کی قدردانی کی توفیق مرحمت فرمائے اور قیامِ پاکستان کے تقاضے کو بروئے کار لاکر ہمیں دنیا وآخرت میں سرخ رو فرمائے۔( آمین)

اقراء سے مزید