• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یومِ میلادُالنبی ﷺ کی صحیح تاریخ کا تعیّن

تفہیم المسائل

سوال: اللہ کے آخری نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کی تاریخ ِ پیدائش کیا ہے ؟ کتبِ سیرت میں 12ربیع الاول ، 9 اور 8ربیع الاول کی روایات موجود ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟، جبکہ علّامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی ﷺ میں لکھا ہے ربیع الاول مذکور کی تاریخوں میں دوشنبہ کا دن 9ربیع الاول کو پڑتا ہے، ان وجوہات کی بناء پر تاریخ ولادت 20اپریل571ء تھی ، (سیرت النبی ، جلد اول، ص :173زاہد بشیر پرنٹر ،لاہور)

مولانا الیاس کاندھلوی لکھتے ہیں: آپ ﷺ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے ،(سیرت النبی، جلد 1ص:51)۔ قاضی سلمان منصور پوری رحمۃللعالمین میں لکھتے ہیں: آپ کی ولادت 9ربیع الاول کو ہوئی۔ مصر کے عالم محمود پاشا فلکی نے ریاضی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ آپ کی ولادت9، ربیع الاول کو ہوئی۔ مفتی صاحب بعد کی دو کتابوں کے حوالے میرے پاس موجود نہیں؟(محمد ذیشان اصغر، گوجرانوالہ)

جواب: دین میں نقل وروایت اصل اور اساس ہے ۔عقلی استدلالات ، سائنسی وفنّی حسابات سے ہم استفادہ تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر نقل وروایت کی ساری اساس کو رد نہیں کر سکتے۔ اسی روش کی بناء پر ماضیٔ قریب اور عہدِ حاضر کے متجدّدین نے، جو اہل مغرب سے ہمیشہ مرعوب رہتے ہیں اور مستشرقین کے پروپیگنڈے سے جلد متأثر ہو جاتے ہیں، معجزات ِ انبیائے کرامؑ کا انکار کیا، واقعۂ اصحابِ فیل، معجزۂ شق القمر، معجزۂ معراج النبی ﷺ اور سابق انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات کی جو روایات امّت میں تعامل وتوارث کے ساتھ مسلّمہ چلی آرہی ہیں، ان کی عقلی تاویلیں شروع کر دیں۔

اسی طرح ختم المرسلین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی احمد ِ مجتبٰی ﷺ کا یومِ ولادت باسعادت پیر بارہ ربیع الاول کو ہونا، صدیوں سے امّت میں مسلّم ہے، اسے ’’تَلَقِّی بالقبول‘‘ حاصل ہے، اسی پر تعامل وتوارث چلا آرہا ہے، لہٰذا اس کے لئے از سرِ نو بحث وتمحیص کا سلسلہ شروع کرنا درست نہیں ہے۔

پھر یہ کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں ہے کہ کسی نے اس معین دن کا انکار کردیا تو شرعی قباحت لازم آئے گی یا اس کے برعکس اپنی تحقیق کی بناء پر کوئی رائے قائم کردی تواس کے محض اس رائے کے سبب فسادِ عقیدہ لازم آجائے گا۔

آپ ﷺ کے یومِ ولادت کا متبرّک ومقدس ہونا مسلّم ہونا چاہئے، تعیین پر اعتقاد ویقین ضروریات ِ شرعیہ میں سے نہیں ہے۔ جدید سائنسی وفنی علوم کی بنا ءپر رائے قائم کرنے والے خود بھی آپس میں متفق نہیں ہیں اور یہ حقیقت آپ کے سوال میں بھی عیاں ہے، لہٰذا ان میں سے کسی ایک پر انحصار کر کے ہم نقل وروایت اور تعامل وتوارث پر مبنی متفقہ رائے کو بدل بھی دیں، تو اختلاف کسی نہ کسی صورت میں قائم رہے گا۔

پس اصل مبحث یہ نہیں ہے کہ تاریخ کون سی تھی ، اصل مرکزِ عقیدت یومِ میلادالنبی ﷺ کی تقدیس، تعظیم اور حرمت ہے اور اہلِ عقیدت ومحبت کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارے عہدِ حاضر کے علماء میں سے جسٹس علامہ پیر کرم شاہ الازہری ؒ نے اپنی مایۂ ناز تصنیف ضیاء النبی میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی، اہلِ ذوق اس کی جلددوم، صفحات33تا39 پر تفصیل سے ملاحظہ فرمالیں۔

ہمارے ایک دوسرے دینی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بھی اپنی تصنیف میلاد النبی میں اس پر بحث کی ہے۔ ہم ان دونوں اہلِ علم کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ چند دلائل کا ذکر کر رہے ہیں:

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ فخرِ کائنات سرورِ دوعالم ﷺ کا یومِ میلاد دوشنبہ (پیر ) کا دن تھا، اس پر بھی تمام علمائے امّت کا اتفاق ہے کہ ربیع الاوّل کا بابرکت مہینہ تھا اور متقدمین ومتأخرین کا اجماع اسی پر ہے کہ تاریخِ ولادت 12ربیع الاول عام الفیل ہے۔

بقول قاضی سلمان منصور پوری مصنف ’’رحمۃ للعالمین ‘‘یہ 22اپریل 571 عیسوی اور ہندی مہینوں کے حساب سے یکم جیٹھ 628 بکرمی بنتی ہے۔ معروف سیرت نگار علامہ محمد رضا مصری مصنف ’’محمد رسول اللہ ﷺ ‘‘ اور محمد صادق ابراہیم عرجون کی تحقیق کے مطابق سنِ عیسوی کے حساب سے 20اگست570 عیسوی بنتی ہے۔

علم الہیئت کے ماہر محمود پاشا فلکی مصری اور بعض دیگر متاخرین کی تحقیق 9 ربیع الاول کے حق میں بھی ہے، مگر عالمِ اسلام میں قدیم زمانے سے اجماع 12ربیع الاول پر ہی چلا آرہا ہے۔ اس لئے قولِ مختار کا درجہ اسی کو حاصل ہے۔ اس حوالے سے ہم بعض ائمہ کی تحقیق بیان کرتے ہیں : امام ابن اسحاق لکھتے ہیں: ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ مبارکہ بروزپیر 12ربیع الاول کو عام الفیل میں ہوئی،(الوفا ، ص:88)‘‘۔

مشہور سیرت نگار علامہ ابن ہشام متوفیٰ 213 ہجری لکھتے ہیں : ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺپیر کے دن 12ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ، (سیرت النبویہ، جلد1،ص:158،مطبوعہ: دار الحیل ، بیروت)‘‘۔ معروف مفسّر ومؤرّخ امام ابن جریر طبری متوفیٰ310 ہجری لکھتے ہیں: ترجمہ:’’رسول ِ کریم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ بروزپیر 12ربیع الاول کو عام الفیل میں ہوئی ،(تاریخ الامم والملوک المعروف تاریخِ طبری ،جلد 2،ص:125)‘‘۔

علامہ ابن خلدون متوفیٰ 808 ہجری جو علمِ تاریخ اور فلسفۂ تاریخ کے امام مانے جاتے ہیں بلکہ فلسفہ ٔ تاریخ کے موجد بھی ہیں، لکھتے ہیں:ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل کو ماہِ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی، نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا، (التاریخ ابن خلدون، جلد 2،ص: 710،مطبوعہ :بیروت)‘‘۔

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی متوفیٰ 429ہجری، جو علم ِ سیاست اسلامیہ کے ماہرین میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کی کتاب’’الاحکام السلطانیہ‘‘ علمِ سیاست کے طلباء کے لئے بہترین ماخذ ہے، اعلام النبوۃ میں تحریر فرماتے ہیں: ترجمہ:’’واقعۂ اصحاب الفیل کے پچاس روز بعد اور آپ کے والد کے انتقال کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بروز پیر بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے ، ( اعلام النبوۃ،ص: 192)‘‘۔ (جاری ہے)

اقراء سے مزید