آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: مجھ سے ایک شخص نے قرض لیا، لیکن اس کے مالی حالات اچھے نہیں تھے، اس لیے میں نے کچھ عرصے کے بعد دل میں نیت کی کہ میں نے اسے قرض معاف کردیا، لیکن کسی کے سامنے میں نے اس کا اظہار نہیں کیا، اب اس شخص کے حالات کافی بہتر نظر آرہے ہیں، کیا میں اس سے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہوں؟ اور اگر میں زبان سے اس کا قرض معاف کردیتا تو کیا اس کی موجودہ حالت دیکھ کر مجھے اپنی دی ہوئی رقم کے مطالبے کا حق ہوتا؟
جواب: اگر آپ نے مذکورہ شخص کا قرض معاف کرنے کی محض نیت کی تھی، زبانی یا تحریری طور پر اس کا قرض معاف نہیں کیا تھا، تو اس شخص کے ذمے آپ کے قرض کی ادائیگی باقی ہے، لہٰذا آپ اپنی دی ہوئی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
اگر آپ زبانی یا تحریری طور پر اس کا قرض معاف کردیتے تو اس شخص کے ذمے سے قرض کی ادائیگی ساقط ہوجاتی، اس صورت میں آپ کو مطالبے کا حق نہیں ہوتا۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة:51، ج:1، ص:54، ط:دار الجيل - الموسوعة الفقهية الكويتية، الإبراء، ج: 1 ، ص: 149 ، طبع : دار السلاسل – الفتاوى الهندية، الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين، ج:4، ص:384، ط:مكتبه رشيديه - الفصل الرابع عشر: الإبراء، المبحث الأول ـ تعريف الإبراء ومشروعيته، ج: 6، ص: 4370، ط: دار الفكر، سوريَّة ، دمشق)