اسلام آباد :(انصار عباسی)…اسلام آباد کے چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس کی 14 اگست کی تقریبات کے موقع پر گھوڑوں سے کھینچی جانے والی رسمی بگھی میں سواری کے تنازع نے سرکاری پروٹوکول اور مراعات کے بارے میں عوامی تاثر کے درمیان ایک دلچسپ فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے دونوں افسران کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بگھی کا استعمال صرف اس وقت کیا جب انہیں پروگرام شروع کرنے کی ہدایت دی گئی، کیونکہ مہمان خصوصی اور دیگر اہم شخصیات تاخیر کا شکار ہو گئی تھیں۔ محسن نقوی کی ٹوئٹ سے واضح ہوا کہ افسران کی کوئی غلطی نہیں تھی اور درحقیقت وہ بگھی میں سوار ہونے سے ہچکچا رہے تھے، لیکن انہیں ایسا کرنے کی ہدایت دی گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’ہم نے انہیں ہدایت کی‘‘، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’’ہم‘‘ سے ان کی مراد کون ہے۔ تاہم دو روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر ’’مایوسی اور ناراضی‘‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے نمود و نمائش، مراعات اور تکبر کا تاثر پیدا ہوا۔ محسن نقوی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ’’یہ نہ آئی جی کی غلطی تھی اور نہ چیف کمشنر کی‘‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے باعث وہ اور مہمان خصوصی تاخیر کا شکار ہوئے تھے۔ محسن نقوی کے مطابق عوام شام 5 بجے سے انتظار کر رہے تھے اور جب تقریباً 6 بجے یہ واضح ہوگیا کہ اہم شخصیات کی آمد میں مزید تاخیر ہوگی تو افسران کو پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ عوام کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ بگھی مہمان خصوصی کے لیے تیار کی گئی تھی اور افسران کو مہمان خصوصی کے ساتھ اس میں سوار ہونا تھا، لیکن ’’ناگزیر حالات‘‘ کے باعث بگی کا استعمال ان افسران نے کیا۔ محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ دونوں افسران نے ابتدا میں مہمان خصوصی کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم خصوصی ہدایات ملنے کے بعد انہوں نے پروگرام شروع کردیا۔ تاہم وزیراعظم کے دفتر نے اس فیصلے کے پس منظر میں موجود حالات کے بجائے اس سے پیدا ہونے والے تاثر پر توجہ مرکوز کی۔ وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اسلام آباد کے چیف کمشنر لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف اور انسپکٹر جنرل پولیس سید علی ناصر رضوی کو الگ الگ خطوط جاری کیے گئے، جن میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کا ’’بہت سنجیدگی سے نوٹس‘‘ لیا ہے۔ خطوط میں کہا گیا کہ رسمی بگھی میں دونوں افسران کی موجودگی پر عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی۔ وزیراعظم نے، ایڈوائزری کے مطابق، اس اقدام پر ’’مایوسی اور ناراضی‘‘ کا اظہار کیا جسے انہوں نے نمود و نمائش اور شان و شوکت کا مظاہرہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے مشاہدہ کیا کہ اس واقعے سے مراعات، نمود و نمائش اور ذاتی تشہیر کا تاثر پیدا ہوا، جو عوامی خدمت کے جذبے سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ وزیراعظم نے دونوں افسران کو یہ بھی یاد دلایا کہ سول سرونٹس اور سرکاری عہدیدار عوام کی امانت کے طور پر سرکاری عہدہ رکھتے ہیں اور ان سے ہر وقت عاجزی، ضبط، وقار اور درست فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ وزیراعظم کے نوٹس میں افسران پر کسی مخصوص ضابطے کی خلاف ورزی کا الزام عائد نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں مناسب طرزِ عمل اور عوام کے اعتماد کے وسیع تر سوال کو اٹھایا گیا۔ اس سے واضح کیا گیا کہ کسی اقدام کو سرکاری ہدایات کے تحت انجام دینے کے باوجود اس کا عوام کے سامنے نامناسب تاثر پیدا کرنا بھی قابلِ اعتراض سمجھا جاسکتا ہے۔ دونوں افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں زیادہ احتیاط سے کام لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ اس مراسلے کو ’’حرف بہ حرف اور اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد‘‘ کے لیے ایڈوائزری قرار دیا گیا۔ یوں اس واقعے نے ایک غیر معمولی سرکاری تضاد پیدا کردیا ہے۔ وزیر داخلہ کا دفاع اس مؤقف پر مبنی تھا کہ افسران ہدایات پر عمل کر رہے تھے اور عوام کو انتظار سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ وزیراعظم کا ردعمل اس مؤقف پر مبنی ہے کہ سرکاری عہدیداروں کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ان کے اقدامات شہریوں کو کس انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔