کراچی (رفیق مانگٹ) پاکستان-صومالیہ دفاعی شراکت داری، بھارت کے لیے نیا اسٹریٹجک چیلنج،سابق بھارتی سفیر نے صومالیہ کو پاکستان کا "ابھرتا ہوا اسٹریٹجک محاذ" قرار دے دیا،پاکستان کا خلیج، بحیرہ احمر اور بحرِ ہند میں اثر و رسوخ بڑھانے کا نیا منصوبہ،بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق صورتحال پر گہری نظر ہے،پاکستان اور صومالیہ کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے دفاعی تعلقات نے خطے میں ایک نئی اسٹریٹجک بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں یہ شراکت داری محض تربیتی تعاون سے نکل کر ایک وسیع اور مؤثر دفاعی و جغرافیائی اتحاد کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، وہیں بھارت ان پیش رفتوں کو قریبی طور پر مانیٹر کرتے ہوئے کھل کر اپنی اسٹریٹجک دلچسپیوں کے لیے تشویشناک قرار دے رہا ہے۔7اگست کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت پاکستان اور صومالیہ کے درمیان پیش رفت کو قریب سے فالو کر رہا ہے-گرجیت سنگھ، جو سابق بھارتی سفیر اور ہارن آف افریقہ کے ماہر ہیں، نے صومالیہ کو پاکستان کے لیے ایک ابھرتا ہوا اسٹریٹجک محاذ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں حالیہ دفاعی معاہدے اور بڑھتے عسکری روابط نے نہ صرف علاقائی توازنِ قوت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ خلیج، بحیرہ احمر اور بحرِ ہند تک پھیلے اس اہم جغرافیائی خطے میں پاکستان کے بڑھتے اثر و رسوخ کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ صومالیہ کی خلیجِ عدن اور باب المندب جیسے عالمی تجارتی و توانائی راستوں کے قریب حساس پوزیشن اس تعاون کو مزید اہم بناتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی سیکیورٹی تبدیلی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ بھارت، جو 2008 سے اس خطے میں قزاقی کے خلاف سرگرم ہے، پاکستان کے بڑھتے کردار کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے چیلنج تصور کر رہا ہے۔