• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنید اکبر کے لاشیں اٹھانے کے بیان نے سیاسی و سوشل میڈیا حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر) تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی جانب سے ایک تقریب سے خطاب کے دوران دی گئی یہ دھمکی کہ ہم ’لاشیں اٹھائیں گے اور نئے لوگ آئیں گے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ ہم اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے نے سیا سی حلقوں میں کئی سولات کو جنم دیا ، ایسے بیان کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا لاشوں اور تصادم کی بات کرنے والا کوئی احتجاج واقعی پرامن لانگ مارچ قرار دیا جاسکتا ہے؟، سیا سی حلقوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ پی ٹی آئی کا 27ستمبرکا احتجاج پرامن مارچ ہے یا تصادم؟؟۔ادھر سو شل میڈیا صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی ایسے احتجاج یا مارچ کی اجازت نہ دی جائے جس سے شہریوں کے جان و مال کو خطرہ لا حق ہونے کا خدشہ ہو ۔ سیا سی حلقوں کا موقف ہے کہ سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ جمہوری سیاست کا حصہ ہیں، تاہم کسی احتجاج سے پہلے ہی ہلاکتوں اور شہر کو تباہ کرنے جیسی زبان استعمال کی جائے تو اس کے پرامن ہونے کسی صورت صورت گارنٹی نہیں دے جاسکتی ۔جنید اکبر کے اس بیان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا اور شہریوں نے سیاسی قیادت سے احتجاج کے دوران ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید