کراچی(رفیق مانگٹ)بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندراچوڈ کی شخصیت اور عدالتی میراث شدید تضادات سے عبارت ہے۔ متضاد فیصلوں کی وراثت ، متنازع کردار،ایودھیا اور آرٹیکل 370، وہ فیصلے جو ان کا تعاقب کر رہے ہیں، غیرجانبداری پر اٹھتے سوالات،کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ،ایودھیا کیس،غیرقانونی انہدام کے باوجود زمین ایک فریق کے نام،عدلیہ کی آزادی کے دعوے، مگر فیصلہ کن لمحات میں حکومتی بیانیے کی تائید، الفاظ مضبوط، عمل کمزور، ایک جانب وہ شہری آزادیوں کے علمبردار اور لبرل آئین پرست کے طور پر ابھرے، تو دوسری جانب ایودھیا اور آرٹیکل 370 جیسے حساس مقدمات میں ان کے فیصلے آج بھی ان پر جانبداری اور حکومتی دباؤ کے آگے جھکنے کے الزامات کی زد میں ہیں۔سابق بھارتی چیف جسٹس چندراچوڈ ، متضاد فیصلوں کی وراثت ، متنازع کردارمیڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی عدلیہ میں چندراچوڈ کا ابتدائی دور(2016–2022) ایک ترقی پسند جج کے طور پر نمایاں رہا۔ انہوں نے رازداری کو بنیادی حق قرار دینے، ہم جنس پرستی کو جرم سے خارج کرنے اور زنا کے قانون کو خواتین کی توہین قرار دے کر ختم کرنے جیسے فیصلوں کے ذریعے ایک مضبوط لبرل تشخص قائم کیا۔