• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازہ کے بعد ایک اور سانحہ، پمز اسپتال میں 14 نومولود جاں بحق، انکشافات، سوالات، انتظامی غفلت، ایمرجنسی راستے بند

اسلام آباد (رانا غلام قادر/عاطف شیرازی ) کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی اوردرجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد ایک اور دلخراش سانحہ ‘ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائناکولوجی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں نرسری میں موجود د14نومولود بچے جاں بحق ہو گئےجبکہ ایک بچی کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا‘واقعہ میں انتظامیہ کی غفلت اور کوتاہی کے کئی انکشافات سامنے آئے ہیں اور اسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق متعددسوالات پیداہوگئے ہیں‘ بعض ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں‘لواحقین کا کہنا ہےکہ شناخت کے بغیر ہی میتیں ان کےحوالے کردی گئی ہیں‘ لواحقین کی جانب سے سوال کیے جارہے ہیں کہ آگ سے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کیوں نہ تھے‘ حفاظتی نظام کیوں کام نہیںکررہاتھا‘ہنگامی انخلاء کے رستے بند کیوںتھے؟وفاقی حکومت نے جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 50لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کردیا ہے‘ وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیااوران کی جگہ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) محمد محمود کو سیکریٹری ہیلتھ کا ایڈیشنل چارج تفویض کیاگیا ہے‘دوسری جانب اسلم غوری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے‘شہبازشریف نے اعلیٰ سطح تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ‘سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کوکمیٹی کا سربراہ مقرر کیاگیا ہے‘تحقیقاتی کمیٹی نے کام کا آغاز کرتے ہوئے اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیااور نرسری اسٹاف سے سوالات کیے ۔ کمیٹی 48گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت نے اسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیااوروزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی مستعفی ہونے کا مشورہ دیدیا۔وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے اپنے استعفے سے متعلق کہاہے کہ انہیں جوکہناتھاوہ کہہ چکے ہیں‘ خود کو احتساب کیلئے پیش کردیاہے ‘وزیراعظم میرے باس ہیں ‘وہ جوبھی فیصلہ کریں ‘جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے ۔

اہم خبریں سے مزید