ڈاکٹر نعمان نعیم
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں انسانوں کو مختلف پیرایوں اور انداز میں سب سے زیادہ اللہ کی رحمت کی امید دلائی گئی ہے۔ رحمت اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جس سے اس نے اپنے آپ کو متّصف کیا ہے اور یہ وہ صفت ہے جو کائنات کی ہر چیز پر حاوی ہے۔ پوری کائنات رحمتِ الٰہی کی مظہر ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ’’میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے‘‘ (سورۃ الاعراف، 156) اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کو سراپا رحمت بنا کر بھیجا (سورۃ الانبیاء،107) اسی طرح شرعی احکامات میں بھی رحمت کی صفت کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔
قرآن مجید میں بڑے سے بڑے گناہ گار کو حتیٰ کہ خدا کو نہ ماننے والوں کو بھی اس کی رحمت کی امید دلا کر خدا کے قریب ہوجانے اور اس کی فرماں برداری اختیار کرنے کی طرف بلایا گیا ہے۔ اللہ کی طرف لوٹ آنے پر پچھلے تمام گناہ معاف کر دینے کی نوید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے اے میرے وہ بندو جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہو تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بےشک، اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے‘‘ (سورۃالزمر، 53)
اس آیت مبارکہ کو قرآنِ مجید کی امید بھری آیت کہا گیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو چاہے وہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں، اپنا بندہ کہا ہے اور چاہے وہ بڑے سے بڑا گناہ گار ہی کیوں نہ ہو، صرف ایک دو گناہ کرنے والا نہیں بلکہ گناہوں میں حد پار کر دینے والے کو بھی اس آیت میں مخاطب کیا گیا ہے۔ سب کو یہ امید دلائی کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک وہ تمام گناہ بخش دے گا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ ایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں جو اس کے عرش کے پاس رکھی ہوئی ہے اپنے بارے میں لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی (صحیح بخاری، 7404) یعنی اللہ تعالیٰ کو انسانوں کو سزا دے کر نہیں بلکہ انہیں معاف کرکے خوشی ہوتی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کتنی محبت فرماتا ہے اور انہیں اپنی رحمت کی کتنی امید دلاتا ہے۔ ایک حدیث مبارک میں اللہ کے رسول ﷺ نے اس کو واضح کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ یہ حدیث روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ ان قیدیوں میں سے ایک عورت ادھر سے ادھر دوڑتی پھر رہی تھی۔ جیسے ہی اسے ایک بچہ نظر آیا اس نے اس بچے کو پکڑ کے اپنے سینے سے لگالیا اور دودھ پلانے لگی۔
رسول اللہ ﷺنے صحابۂ کرامؓ سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟ صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا نہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ عورت جتنی اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے (صحیح بخاری ، 5999)۔ یہ حدیث رب کے نافرمانوں کو اس کی رحمت کی امید دلاتی اور انہیں رب کی طرف لوٹ جانے کی ترغیب دیتی ہے۔
اسی طرح ایک حدیث قدسی ہے (وہ حدیث جس میں رسول اللہ ﷺ رب سے روایت فرماتے ہیں) اسے حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امیدیں وابستہ رکھے گا تو میں تجھے معاف کرتا رہوں گا۔ اے ابن آدم! تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں اور تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے معاف کردوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو اتنے گناہ لے کر آئے کہ روئے زمین بھر جائے تو میں تب بھی تیری مغفرت کر دوں گا، بشرطیکہ تو نے شرک نہ کیا ہو۔ (ترمذی،3540)۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا واجب ہے۔
بندہ رب کے بارے میں جیسا گمان کرے گا اللہ تعالیٰ اسی طرح اس سے برتاؤ کرے گا۔ حدیث قدسی ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے بارے میں گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ (صحیح بخاری، 7505) ہمیں اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، اگر وہ چاہے تو کسی کے ایک گناہ پر ایسی پکڑ کرے کہ ساری نیکیاں کم پڑ جائیں اور اگر وہ چاہے تو کسی کو ایک نیکی پر اپنی رحمت سے ایسا نوازے کہ بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کر دے۔
یہ رب کی رحمت ہی ہے کہ وہ گناہوں پر فوراً انسان کی پکڑ نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ مثبت سوچنے، مایوسی سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کا سہارا لینے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)