آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: اگر ماں باپ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کا پرائیویٹ ایم بی بی ایس میں داخلہ کروائیں اور اس کی فیس دیں، تو کیا ان پر یہ لازم ہے کہ اتنی ہی رقم باقی بچوں کو بھی دیں؟
اگر اتنی رقم ان کے پاس نہ ہو تو اس صورت میں اس اولاد کی بھی فیس نہ دیں جس کا داخلہ ہو رہا ہو؟ براہِ کرم اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
جواب: شریعت نے والدین کو اولاد کے درمیان ہبہ کرنے یعنی گفٹ دینے میں برابری کا حکم دیا ہے، جب کہ تعلیم کا خرچہ ہبہ نہیں، بلکہ یہ نفقہ کے زمرے میں شمار ہوگا، اس لیے اس میں ہر بچے کی ضرورت اور حالات کے مطابق اعتدال سے خرچ کرنا ہی عدل ہے؛ لہٰذا کوئی ایک بچہ ایم بی بی ایس کر رہا ہو تو اس کی فیس کے برابر رقم بقیہ بچوں کو دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ دیگر بچوں کے تعلیمی اخراجات اور ضروریات کو ان کے لیے مفید اور موزوں تعلیمی میدان کے اعتبار سے پورا کرنے کی گنجائش ہے۔
(کشف القناع عن متن الاقناع ، باب الہبۃ والعطیۃ، فصل فی التعدیل بین الورثۃ فی الہبۃ، ج:10، ص:143، وزارۃ العدل فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk